قومی اسمبلی نے بچوں کی نگہداشت اورتحفظ کا بل اتفاق رائے سے منظور کرليا۔

14 فروری 2018 (18:05)
قومی اسمبلی نے بچوں کی نگہداشت اورتحفظ کا بل اتفاق رائے سے منظور کرليا۔

اسپیکرسردارایازصادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی کااجلاس ہوا، وزیر برائےانسانی حقوق ممتازتارڑنےقصورجیسےسانحات کی روک تھام کیلئے بچوں کےتحفظ ونگہداشت کےانتظام کابل ایوان میں پيش کيا جو متفقہ طور پرمنظور کرليا گيا، وزارت انسانی حقوق نے بچوں کیساتھ جنسی زیادتی سے متعلق رپورٹ پیش کی، ایوان کوبتایا گیا کہ گزشتہ پانچ سال میں بچوں سے زیادتی کےسترہ ہزارآٹھ سو باسٹھ واقعات رپورٹ ہوئے، لڑکیوں سے زیادتی کے دس ہزار چھ سو بیس اورلڑکوں سے زیادتی کے سات ہزاردو سو بیالیس واقعات رپورٹ ہوئے، وزارت انسانی حقوق کے مطابق بچوں پرتشدد کےمقدمات میں صرف ایک سو بارہ مجرموں کو سزا ہوئی، پچیس مجرموں کو سزائے موت اورگیارہ کوعمر قید کی سزا ہوئی،باقی ملزمان کو قید کی سزائیں ہوئیں، وزیربرائےانسانی حقوق ممتاز تارڑ نے کہا کہ ملک میں بچوں سے متعلق قوانین موجود ہیں جن پرعملدرآمد نہیں ہوتا، پولیس کی ناقص تفتیش اورعدالتی نظام کی کمزوریاں اہم مسائل ہیں۔



زینب قتل کیس کا فیصلہ

لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں جج سجاد احمد نےزینب قتل کیس کا فیصلہ سنادیا۔ عدالت ...