ایل این جی کی درآمد کے بعد سی این جی سٹیشنوں اور کارخانوں کو گیس کی فراہمی جاری

ایل این جی کی درآمد کے بعد سی این جی سٹیشنوں اور کارخانوں کو گیس کی فراہمی جاری

پاکستان سٹیٹ آئیل(پی ایس او) نے ملک میں توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کوپوراکرنے کیلئے اب تک 36 کروڑ79 لاکھ 19 ہزار 495 ملین میٹرک تھرمل یونٹس ایل این جی درآمد کی ہے۔سرکاری ذرائع نے ”اے پی پی“ کو بتایاکہ حکومتی سطح پرانتظامات کے تحت ایل این جی خلیجی ریاست قطرسے درآمدکی جارہی ہے تاہم مسابقتی بولی کے ذریعے پی ایس اونائیجیریا، برطانیہ، سپین، گنی،آسٹریلیا ، ٹرینیڈاڈاورہالینڈ سے بھی ایل این جی درآمدکررہاہے۔ذرائع کے مطابق ایل این جی پالیسی مجریہ2011 ءکے آرٹیکل 3.1 ڈی کے تحت ایل این جی کی درآمد کیلئے کسی لائسنس کی ضرورت نہیں ہوتی تاہم آئیل اینڈگیس ریگولیٹری اتھارٹی کے ایل این جی سے متعلق قواعد کے تحت اس کی مارکیٹنگ، فلنگ اورترسیل وتقسیم کیلئے لائسنس کاحصول ضروری ہے۔ موجودہ وقت میں قطر سے 140000 کیوبک میٹر ایل این جی پر مشتمل پانچ کارگو جہاں ماہانہ پاکستان آرہے ہیں جس سے 500 ملین کیوبک فٹ گیس حاصل ہوتی ہے، سالانہ بنیادوں پر یہ شرح 3.75 ملین ٹن بنتی ہے جبکہ ٹرم ٹینڈر انتظامات کے تحت مزید 0.75 ملین ٹن سالانہ ایل این جی کی درآمد بھی جاری ہے، مجموعی طورپر ملک میں4.5 ملین ٹن سالانہ ایل این جی کی درآمد ہو رہی ہے ۔ ایک سوال پرذرائع نے بتایاکہ فروری 2016ءمیں حکومتی انتظامات کی سطح پر پاکستان سٹیٹ آئل نے قطر گیس کمپنی کے ساتھ 15سالہ معاہدہ کیا تھا، اس معاہدے سے گیس پرچلنے والی صنعتوں کو بے مثال فائدہ پہنچا ہے جن میں سی این جی سٹیشنز، گیس سے چلنے والے پلانٹس، کھاد سازی کے کارخانوں اور دیگر صنعتوں کو بلاتعطل گیس کی فراہمی ہو رہی ہے اور معیشت کا پہیہ بھی چل پڑا ہے۔ ذرائع کے مطابق گیس کی درآمد کے علاوہ پاکستان کے پاس توانائی بحران کے حل کا کوئی دوسرا متبادل حل نہیں تھا۔ ایل این جی کی درآمد پاکستانی معیشت کے لئے گیم چینجر کی حیثیت رکھتی ہے اور اس سے توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملی ہے ۔سرکاری ذرائع کے مطابق دنیا ایل این جی کی طرف راغب ہورہی ہے ۔ چین، کوریا ، جاپان ، بھارت ، تھائی لینڈ ، انڈونیشیا، یورپی یونین کے ممالک اور برازیل اپنی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑاحصہ ایل این جی کے ذریعے پورا کررہے ہیں۔ جاپان سالانہ 80 ملین ٹن جبکہ بھارت 15ملین ٹن ایل این جی درآمد کررہا ہے ۔ ذرائع کے مطابق پاکستان میں گیس کی طلب اور رسد میں تقریبا 4 بلین کیوبک فٹ یومیہ کا گیپ موجود ہے۔ سردیوں میں طلب میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے ۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے ایل این جی ایک بہترین متبادل ذریعہ ہے۔ ایل این جی کی درآمد کے بعد 1200سے زائد سی این جی سٹیشنوں، کھاد سازی کے کارخانوں اور دیگر صنعتوں کو گیس کی فراہمی بلاتعطل جاری ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ ایل این جی کی درآمد سے قبل پاکستان 2 ملین ٹن یوریا کھاد درآمد کررہا تھا تاہم ایل این جی کی درآمد کے بعد کھاد سازی کے کارخانوں کو بلاتعطل گیس کی فراہمی کے بعد اس وقت پاکستان 7 لاکھ ٹن کھاد برآمد کرنے کی پوزیشن میں آگیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان، چین، ترکی، روس، ملائیشیا، انڈونیشنیا اور عمان سمیت کئی ممالک کے ساتھ توانائی کے شعبوں میں معاہدوں کو آگے بڑھا رہا ہے۔

Most Popular