برآمدات بڑھانے کیلئے روپے کی قدر کم کرنے کے بجائے توانائی سستی کی جائے۔

برآمدات بڑھانے کیلئے روپے کی قدر کم کرنے کے بجائے توانائی سستی کی جائے۔

پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر،بزنس مین پینل کے سینیئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ برآمدات بڑھانے کیلئے روپے کی قدر کم نہ کرنے کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا فیصلہ درست ہے۔کاروباری برادری وزیر اعظم کی جانب سے روپے کی قدر مستحکم رکھنے، توانائی کے شعبہ کو خصوصی توجہ دینے اور دیگر اقدامات کی بھرپور تائید کرتی ہے۔ برآمدات بڑھانے کیلئے کرنسی کی قدر کم کرنے کی ترکیب سے وقتی طور پر تھوڑا سا فائدہ ہوتا جبکہ دیگر شعبوں اور عوام کو زیاد ہ زیادہ نقصان ہوتا اسلئے روپے کی قدر کم کرنے کے بجائے توانائی کی قیمت کم کرنے کی ضرورت ہے۔میاں زاہد حسین نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ برآمدکنندگان کی ایما پرمختلف حکومتوں نے کئی بار اعلانیہ اور غیر اعلانیہ طور پر روپے کی قدر کم کی جس سے برآمدات کے بجائے مہنگائی بڑھی۔ برآمدکنندگان 2014 سے روپے کی قدر میں کمی کا مطالبہ دہرا رہے ہیں جبکہ انھیں ملکی مفاد بھی مد نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔امسال میں بھارت کی کرنسی کی قدر میں چار فیصد اور بنگلہ دیش کے کرنسی کی قدر میں تین فیصد کمی کو پاکستان میں مثال نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ تینوں ممالک کی معیشت کے مسائل، صلاحیت اور دیگر جزیات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ انھوں نے کہا کہ فوج کی قربانیوں کی وجہ سے ملک میں امن و امان کی صورتحال مسلسل بہتر ہو رہی ہے۔ جب سیکورٹی کی صورتحال انتہائی خراب تھی تو برآمدات پچیس ارب ڈالر تھیں جبکہ سیکورٹی کی صورتحال جس رفتار سے بہتر ہو رہی ہے برآمدات بھی اسی رفتار سے کم ہو رہی ہیں جو برآمدکنندگان کے دعووں کی نفی ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ گزشتہ سال کا جاری حسابات کا خسارہ بارہ ارب ڈالر یا مجموعی قومی آمدنی سے چار فیصد تک جا پہنچا ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو امسال یہ جی ڈی پی کے پانچ فیصد تک پہنچ سکتا ہے جو 2008 کے بعد ایک ریکارڈ ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ بعض عناصر کی جانب سے روپے کی قدر فوری طور پر کم کرنے کا مطالبہ شدت پکڑ رہا ہے اور اگر حکومت ایسا کرنا ضروری سمجھے تو روپے کی قدر ایک دم کم کرنے کے بجائے بتدریج کم کی جائے۔

Most Popular