محکمہ ایکسائز فرید کورٹ ہاﺅس لاہور میں نیو موٹرسائیکلز کی رجسٹریشن کے لیے آنے والے شہری فائل کے حصول کیلئے ہفتوں خوار ہونے لگے

محکمہ ایکسائز فرید کورٹ ہاﺅس لاہور میں نیو موٹرسائیکلز کی رجسٹریشن کے لیے آنے والے شہری فائل کے حصول کیلئے ہفتوں خوار ہونے لگے

یہ ہے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن لاہور کا دفتر جہاں شہریوں کی سہولت کے لیے سنٹرز تو بنا دیے گئے ہیں مگر اِس کے باوجود انہیں موٹرسائیکل کو نمبر لگوانے اور فائل حاصل کرنے کے لیے ہفتوں چکر لگانا پڑتے ہیں۔ انہیں نہ تو وقت پر کتاب ملتی ہے اور نہ فائل ۔۔ افسروں کے ایجنٹ رشوت لے کر اپنے کلائنٹس کا کام کرا دیتے ہیں۔۔ شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ یہاں کے سفاک ملازمین اور افسروں نے غریب عوام کا جینا محال کر رکھا ہےشہریوں کا کہنا تھا کہ ڈیٹا انٹری آپریٹرز نے "کمائی" کیلئے پرائیویٹ ملازمین رکھے ہوئے ہیں۔ عام آدمی کی فائلیں تین، تین ہفتوں بعد مل رہی ہیں۔ای ٹی او عدیل امجد کا کہنا تھا کہ فائلوں کی فوری فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے گئے ہیں۔ون ونڈو آپریشن کے حکومتی دعوے محض دعوے ہی ثابت ہوئے ہیں۔ لاکھوں روپے کے اشتہارات دینے اور سنٹرز قائم کرنے کے باوجود شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اعلیٰ افسران محکمہ ایکسائز کے دفتروں سے کرپٹ مافیا کا صفایا کریں 

Most Popular