روس میں رقص کے مقابلوں کیلئے سینکڑوں افراد اعضا کی شاعری کیلئے اکٹھے ہوگئے۔

روس میں رقص کے مقابلوں کیلئے سینکڑوں افراد اعضا کی شاعری کیلئے اکٹھے ہوگئے۔

روس کے دارالحکومت ماسکو میں ہونے والے انٹرنیشنل ڈانس مقابلوں کے انعقاد کیلئے پانچ سے زائد رقاص جمع ہوگئے۔ جن میں شریک آئرلینڈ کے ڈانسرز نے اپنے منفرد انداز سے لوگوں کو گرویدہ کرلیا۔ آئرش ڈانس کی روایت قرون وسطٰی کے کیلٹک دور کے قبائلی رقص سے شروع ہوتی ہے، جس میں انفرادی اور اجتماعی ڈانس کا مظاہرہ کیاجاتاہے۔ کائلی نامی اس ڈانس میں دو سے سولہ افراد شریک ہوتے ہیں، تاہم انفرادی ڈانس زیادہ پسند کیاجاتاہے، جس میں ڈانسر سخت مقابلہ کرتے ہیں۔ روس میں ہونے والے اس ڈانس مقابلوں کی پریکٹس کے دوران مائیکل فلیٹلی کی پرفارمنس شائقین کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ موجودہ دور میں آئرش ڈانس کی مقبولیت مائیکل فلیٹلی نامی شخص کی بدولت ہے، جو اپنی شاندار پرفارمنس کے باعث اپنا نام ورلڈ گنیز بک آف ریکارڈ میں بھی لکھواچکے ہیں۔

About the author /

Waqt News

Waqt News Web Team

Most Popular