نوجوانوں کے بجائے بوڑھوں کو ملازمت دینے والی انوکھی کمپنی

نوجوانوں کے بجائے بوڑھوں کو ملازمت دینے والی انوکھی کمپنی

جنوبی کوریامیں ایک ایسی کمپنی بھی ہے جو نوجوانوں کے بجائے 55 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کو ملازمت پر رکھتی ہے۔ایور ینگ نامی ٹیکنالوجی کمپنی سیول میں واقع ہے جس کی بنیاد 2013میں رکھی گئی اور پہلے دن سے ہی کمپنی کا قانون ہے کہ یہاں ملازمت کے خواہشمند افراد کی عمر 55سال یا اس سے زائد ہونی چاہیئے تاہم کمپنی نوجوانوں کو ملازمت نہیں دیتی۔ایورینگ نامی کمپنی میں 420افراد ملازمت کرتے ہیں جن کی عمریں 55سے 83سال کے درمیان ہے اور تمام لوگ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ سے بخوبی واقف ہیں۔جنوبی کوریا میں سرکاری و نجی طور پر ملازمت کی عمر کی حد 60سال ہے لیکن ایور ینگ نامی کمپنی کے مالک چنگ آن سنگ کا کہنا ہے کہ اس قانون کو تبدیل ہونا چاہیے کیوں کہ سینئرز قابل قدر ہوتے ہیں اس لئے ہماری کمپنی نوجوانوں کے مقابلے میں بڑی عمر کے افراد سے اچھا کام لے رہی ہے۔چنگ آن سنگ نے 2013 میں کمپنی کی بنیاد رکھنے کے بعد ہی قانون بنایا تھا کہ کمپنی میں کسی نوجوان کو بھرتی نہیں کیا جائے گا اور کمپنی کا بنیاد مقصد صرف 55 سال سے زائد عمر کے افراد کو ملازمت دینا ہے جب کہ گزشتہ 4سال سے وہ اپنے بنائے گئے اس قانون کی پاسداری کر رہے ہیں۔اکثر لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ بزرگ افراد ٹیکنالوجی کو سمجھنے کی کم صلاحیت رکھتے ہیں تاہم چنگ آن سنگ کا دعوی ہے کہ ان کی کمپنی میں ملازمت کرنے والے بزرگ سیکھنے اور کام کرنے کے اعتبار سے نوجوانوں کے مقابلے میں زیادہ پرجوش اور نئی چیزیں سیکھنے کے بھی شوقین ہیں۔ایور ینگ کمپنی کا کام گوگل کی طرز پر جنوبی کوریا میں چلنے والی ویب سائٹ کے مواد کی نگرانی کرنا ہے جس کا بنیادی مقصد انتہائی حساس معلومات کو سینسر کرنا اور مختلف بلاگز کے مواد بھی چھان بین کرنا بھی ہے۔

Most Popular