خدائے سخن کے نام سے مشہور اردو کےعظیم شاعر میرتقی میر کو جہان فانی سے گزرے دوسو ایک برس بیت گئے۔

خدائے سخن کے نام سے مشہور اردو کےعظیم شاعر میرتقی میر کو جہان فانی سے گزرے دوسو ایک برس بیت گئے۔

میر تقی میرسترہ سوتئیس میں آگرہ کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہو ئے ۔ ان کے والد محمد علی متقی ایک گوشہ نشین بزرگ تھے۔ انہوں نے محض نو برس کی عمر میں یتیمی کا صدمہ جھیلا۔ میر نےساری زندگی تکلیفوں میں گزاری اس لیے ان کی شاعری میں غم اور الم کا عنصر نمایاں ہےجیسا کہ وہ خود کہتے ہیں: مجھ کو شاعرنہ کہو میرکہ صاحب ہم نے درد و غم کتنے کئے جمع تو دیوان کیا   میر کے بعد آنے والے تمام شعراء نے ان کی عظمت کا اعتراف کیا ہے۔ غالب جیسے اعلیٰ پایہ کے شاعر بھی کہتےہیں: غالب اپنا یہ عقیدہ ہے بقول ناسخ آب بے بہرہ ہے جو معتقد میر نہیں   میرتقی میر تلاش معاش کی فکر میں دہلی پہنچے اور ایک نواب کے ہاں ملازم ہو گئے ۔ نواب صاحب کے ایک جنگ میں مارے جانے کے بعد وہ آگرہ لوٹ آئے جب گزر اوقات کی کوئی صورت نہ بن سکی تو دوبارہ دہلی روانہ ہوئے۔ میر کا زمانہ شورشوں اور فتنہ و فساد کا زمانہ تھا۔ ہر طرف پریشانیوں کا سامنا کرنے کے بعد بالآخر میر گوشہ عافیت کی تلاش میں لکھنؤ گئے۔ جہاں ان کی شاعری کی دھوم مچ گئی۔ آخری تین سال میں جوان بیٹی اور بیوی کے انتقال نے صدمات میں اور اضافہ کیا۔ قلم کی دنیا کا بادشاہ اٹھارہ سو دس میں لکھنو کی آغوش میں ہمیشہ کے لیے آسودہ خاک ہوا۔

About the author /

Waqt News

Waqt News Web Team

Most Popular