لاہور کے جنوب میں واقع موچی دروازہ اکبری دور کے ایک ہندو جمعدار کے نام سے جڑا ہے

لاہور کے جنوب میں واقع موچی دروازہ اکبری دور کے ایک ہندو جمعدار کے نام سے جڑا ہے

لاہور کے جنوب میں واقع موچی دروازہ اکبری دور کے ایک ہندو جمعدار کے نام سے جڑا ہے جو تمام عمر اس دروازے کی حفاظت پر تعینات رہا۔ ایک روایت کے مطابق پہلے اس کا نام موچی دروازہ ہی تھا مگر انگریزوں کے دور حکومت میں یہ دروازہ گرا دیا گیا۔موچی گیٹ میں واقع لال کھوہ خاص شہرت کا حامل ہے۔ یہ کنواں خدمت خلق کے تحت ایک سکھ پنتھی چندولال نے 1825 میں تعمیر کرایا۔ لال کھوہ آج اجڑ چکا ہے مگر اس کے آثار ابھی بھی موجود ہیں۔لال کھوہ کے ساتھ گلی لٹھ ماراں واقع ہے۔ یہاں مغلیہ دور میں سامان حرب تیارکرنے والے مزدور مکین تھے۔ دہلی دروازے کی طرح موچی گیٹ میں بھی مسلمانوں کے جلسے منعقد ہوتے تھے جہاں خوب تقاریر کی جاتیں۔ یہاں ناصرف خوبصورت مساجد موجود ہیں بلکہ امام بارگاہیں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتیں۔

Most Popular