برصغیرکی نامورگلوکارہ ملکہ ترنم نورجہاں کوبچھڑے بارہ سال بیت گئے۔ لیکن لازوال گیتوں نے انہیں آج بھی مداحوں کے دلوں میں زندہ رکھا ہواہے۔

برصغیرکی نامورگلوکارہ ملکہ ترنم نورجہاں کوبچھڑے بارہ سال بیت گئے۔ لیکن لازوال گیتوں نے انہیں آج بھی مداحوں کے دلوں میں زندہ رکھا ہواہے۔

ملکہ ترنم نور جہاں اکیس ستمبر انیس سو چھبیس کوقصور میں پیدا ہوئیں۔ ان کا اصل نام اللہ وسائی جبکہ نور جہاں ان کا فلمی نام تھا۔ انہوں نے اپنے فنی کیرئیر کا آغاز انیس سو پینتیس میں "پنڈ دی کڑی " سے کیا ۔ انہیں شاندار پرفارمنس کے باعث صدارتی ایوارڈ ،تمغہ امتیاز اور بعد ازاں پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیا۔ انیس سو پینسٹھ کی جنگ میں انہوں نے میریاڈھول سپاہیا ، اے وطن کے سجیلے جوانوں ، ایہہ پتر ہٹاں تے نئیں وِکدے، رنگ لائے گا شہیدوں کا لہوسمیت بے شمارملی نغمے گا کر قوم اورفوج کے جوش وولولہ میں اضافہ کیا۔ انہوں نے مجموعی طورپردس ہزارسے زائدغزلیں اورگیت گائے جن میں فیض احمدفیض کی نظم'' مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ'' بے پناہ ہٹ ہوا جس نے ملکہ ترنم کو کامیابیوں کے نئے سفرپرگامزن کردیا۔ نورجہاں نے اپنی سریلی اور پختہ آواز سے کئی نسلوں کو اپنا گرویدہ بنایا آج وہ ہم میں نہیں لیکن ان کی آواز کا جادو آنے والی نسلوں کو بھی مسحور کرتا رہے گا۔ اگرچہ میڈم نورجہاں تیئس دسمبر دوہزار کو اس جہان فانی سے کوچ کر گئیں لیکن دنیا بھر کے فلم بینوں، علم موسیقی سے رغبت رکھنے اورچاہنے والوں کے دلوں میں اپنے گیتوں کی بدولت ہمیشہ زندہ رہیں گی۔

About the author /

Waqt News

Waqt News Web Team

Most Popular