وہ مقام جہاں 6 ماہ دن اور 6 ماہ رات ہوتی ہے۔

وہ مقام جہاں 6 ماہ دن اور 6 ماہ رات ہوتی ہے۔

اکثر آپ لوگوں نے سنا ہوگا کہ دنیا کے کچھ ایسے مقامات بھی ہیں جہاں 6 مہینے سورج چمکتا رہتا ہے اور 6 مہینے اندھیرا رہتا ہے ۔ تو آج اپنے دوستوں کو کچھ ایسے ہی نارتھ پول (قطب شمالی) کے مقامات کے بارے میں بتاتے ہیں۔لیکن سب سے پہلے ذہن میں رہے یہ اندھیرہ یا دن مکمل 6 ماہ تک کا نہیں ہوتا۔ اور نہ ہی قطب شمالی کے تمام علاقوں میں اس طرح ہوتا ہے۔ ان مقامات میں سے ایک شمالی ناروے کا ایک شہر "تھرمسو" اور "روزویا" گاوں بھی ہیں۔
گرمیوں میں تھرمسو میں یہاں شام ہی نہیں ہوتی‘ سورج اس شہر میں 24 گھنٹے چمکتا ہے‘ شہر میں مشرق اور مغرب کی تمیز بھی ممکن نہیں‘ سورج چھتوں پر بھی نہیں پہنچتا‘ یہ صرف کھڑکیوں‘ دروازوں پر دستک دے کر آگے بڑھ جاتا ہے‘ آپ اگر زمین کا گلوب دیکھیں تو آپ کو قطب شمالی اس کی چوٹی پر نظر آئے گا‘ نارتھ پول دراصل زمین کی چھت ہے‘ اس چھت کے گرد دائیں سے بائیں سورج گھومتا رہتا ہے۔
سورج گھومنے کے دوران اسے ایک خاص زاویے سے فوکس رکھتا ہے اور یوں شمالی ناروے میں رات نہیں ہوتی‘ سورج چوبیس گھنٹے آسمان پر چمکتا رہتا ہے‘ سورج کی یہ چمک 25 ستمبر تک جاری رہتی ہے‘ 25 ستمبر کو قطب شمالی سے سورج اچانک غائب ہو جاتا ہے اور پورے خطے پر طویل رات طاری ہو جاتی ہے‘ چوبیس گھنٹے کی لمبی رات۔ شمالی ناروے کے ایک گائوں ’’روزویا‘‘ میں 19 اکتوبر سے 23 فروری تک 24 گھنٹے مکمل اندھیرا رہتا ہے‘ آپ دن کے وقت بھی باہر نکلیں تو آپ کو ہاتھ سے ہاتھ سجھائی نہیں دیتا‘ قطب شمالی کی رات18 مارچ تک جاری رہتی ہے 25 ستمبر سے 18 مارچ تک 175 دن یہ خطہ اندھیرے میں ڈوبا رہتا ہے‘ اس دوران یہاں برف ہوتی ہے‘ سردی ہوتی ہے اور قطب شمالی کے سفید ریچھ ہوتے ہیں۔
18 مارچ کو سورج واپس آ جاتا ہے اور قطب شمالی کے لوگ سورج کی واپسی کا تہوار مناتے ہیں اور پھر یہ سورج 25 ستمبر تک ڈوبتا نہیں‘ ان 175 دنوں میں 20 جون سے 20 جولائی کے دوران قطب شمالی میں ’’ مڈ نائیٹ سن‘‘ رہتا ہے‘ سورج دائیں سے بائیں گھومتے ہوئے رات کے بارہ بجے نقطہ انتہا تک پہنچتا ہے اور پھر ڈوبے بغیر آگے کا سفر شروع کر دیتا ہے‘ یہ ایک حیران کن تجربہ ہوتا ہے‘ آپ کے سامنے سورج مشرق سے مغرب تک جاتا ہے اور پھر وہاں سے چمکتا ہوا آگے بڑھ جاتا ہے اور آپ رات کے بارہ بجے سورج کو دن کے بارہ بجے کی پوزیشن پر دیکھتے ہیں۔
تھرمسو شمالی ناروے کا آخری بڑا شہر ہے۔ تھرمسو شہر کی صورتحال رات کے دو تین بجے یہ ہوتی ہے۔
سورج چمک رہا ہوتاہے لیکن لوگ غائب ہوتے ہیں۔ تھرمسو ایک درمیانے سائز کا جزیرہ ہے‘ یہ جزیرہ سمندر کے درمیان واقع ہے‘ اس کے چاروں اطراف سمندر ہے لیکن اس سمندر کو تین اطراف سے پہاڑوں نے گھیر رکھا ہے‘ حکومت نے سمندر پر دو پل بنا کر تھرمسو کو دونوں اطراف کی پہاڑیوں سے جوڑ دیا ہے، شہر کے چاروں اطراف سبزہ اور پانی ہے‘ آپ کسی جگہ کھڑے ہو جائیں آپ کو برف پوش پہاڑ‘ سبزہ اور پانی دکھائی دے گا۔
تھرمسو کی دائیں طرف آپ پل پار کر کے پہاڑ کے دامن میں پہنچتے ہیں تو آپ شہر کی واحد کیبل کار تک پہنچ جاتے ہیں‘ یہ کیبل کار 1961ء میں بنائی گئی تھی‘ آپ کیبل کار کے ذریعے پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ جاتے ہیں‘ چوٹی سے آپ کو پورا تھرمسو شہر‘ تاحد نظر پھیلا ٹھنڈا سمندر اور اس لا محدود کائنات میں چھوٹا سا اپنا آپ نظر آتا ہے اور آپ قدرت کی صناعی کی داد دئیے بغیر نہیں رہسکتے‘ آپ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

Most Popular