الیکشن کمیشن جعلی ڈگری والوں کونوٹی فکیشن کے ذریعےنااہل قرار دے سکتا تھا ۔جان بوجھ کر غلط بیانی کرنے پر فوجداری کی کارروائی بنتی ہے۔ افتخار محمد چوہدری

الیکشن کمیشن جعلی ڈگری والوں کونوٹی فکیشن کے ذریعےنااہل قرار دے سکتا تھا ۔جان بوجھ کر غلط بیانی کرنے پر فوجداری کی کارروائی بنتی ہے۔ افتخار محمد چوہدری

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے جعلی ڈگری کیس کی سماعت کی۔ عدالت میں چیئرمین ایچ ای سی اور سیکریٹری الیکشن کمیشن بھی موجود تھے ۔ چیف جسٹس نےالیکشن کمیشن سےکہا کہ چون ارکان پارلیمنٹ کی ڈگریاں جعلی ہیں اور ایک سو انانوے ارکان میٹرک اورانٹر کی اسناد پیش کرنے میں ناکام رہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جان بوجھ کر غلط بیانی کرنے پر فوجداری کی کارروائی بنتی ہے۔ جعلی ڈگری والے پہلے دن سے ہی الیکشن لڑنے کے لیےنااہل ہیں۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان نے عدالت کو بتایا کہ ایچ ای سی نے انہتر جعلی ڈگریوں سے متعلق تحریری طور پرآگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت کی ہدایت پر کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی۔ سات مقدمات میں اسناد کی ایچ ای سی نے یونیورسٹوں سے تصدیق کرلی تھی۔ چیف جسٹس نے سیکریٹری الیکشن کمیشن سے کہا کہ آپ نے کہا تھا ارکان نےاسنادجمع نہ کرائیں توان کی ڈگریوں کو جعلی قراردیں گے۔

About the author /

Waqt News

Waqt News Web Team

Most Popular