ایبٹ آباد آپریشن کو گزرے4 برس ہوگئے

ایبٹ آباد آپریشن کو گزرے4 برس ہوگئے

ایبٹ آباد میں امریکہ کی جانب سےعالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مبینہ طور پر اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کیا گیا، امریکہ جانب سے یہ دعوی بھی کیا گیا کہ حملے کے نتیجے میں اسامہ بن لادن مارا گیا ہے،قومی سلامتی پر ہونے والے حملے کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے جج جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی سربراہی میں ایک کمیشن تشکیل دیا گیا ،کمیشن نے طویل تحقیقات کے بعد اپنی رپورٹ وفاقی حکومت کو پیش کی،لیکن اس رٌپورٹ سے پردہ بھی نہیں اٹھایا جا سکا اور قوم کے ذہن میں موجود سولات کاجواب نہیں مل سکا،غیرملکی میڈیا کی جانب سےایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کے کچھ حصے منظر عام پرآئے،لیکن حکومت کی جانب سے چار سال گزرنے کے بعد بھی اس رپورٹ کو منظر عام پر نہیں لایا گیا اور نہ ہی قومی سلامتی پر ہونے والے حملے پر اٹھنے والے سوالات کا جواب دیا گیا، امریکہ نے اسے کامیاب آپریشن قرار دیا بعد ازاں اسامہ بن لادن کی دو بیویوں اور بچوں کو پاکستانی سیکیورٹی ادروں نے اپنی تحویل میں لیا اور ان کے خلاف اسلام آباد میں دستاویزات چودہ فارنر ایکٹ کے تحت کارروائی کرتے ہوئے انہیں ان کے ملک بھجوا دیا گیا،،،چار برس گزرنے کے بعد بھی قوم کے ذہن میں یہ سوال موجود ہے کہ امریکہ کی جانب سے پاکستانی سرحدوں کی خلاف ورزی کیوں کی گئی اور پاکستان میں آپریشن کا ان کے پاس کیا جواز تھا اور اسامہ بن لادن پاکستانی حدود میں کیسے پہنچے۔

About the author /

Waqt News

Waqt News Web Team

Most Popular