اسپیکر رولنگ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری، اسپیکر قومی اسمبلی کو عدالتی فیصلے کی جانچ پڑتال کا حق نہیں ہے۔ سپریم کورٹ

اسپیکر رولنگ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری، اسپیکر قومی اسمبلی کو عدالتی فیصلے کی جانچ پڑتال کا حق نہیں ہے۔ سپریم کورٹ

بیالیس صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ اردو میں لکھا گیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم کے وکیل نے جو قانونی نکات اٹھائے وہ اپیل میں بیان کرنے چاہییں تھے۔ اٹارنی جنرل نے بھی سماعت کے دوران غیر متعلقہ اور بے معنی دلائل دیے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی کو اس معاملے میں عدالتی ذہن استعمال کرنا چاہیے تھا۔ اسپیکر قومی اسمبلی کو دیکھنا چاہیے تھا کہ نااہلی کا سوال اٹھتا ہے یا نہیں۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد میں جان بوچھ کر تاخیر کی جس سے انصاف کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔ عدالت آرٹیکل تریسٹھ ون جی کے تحت نااہل قرار دے سکتی ہے۔ وزیر اعظم کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دینے کے بعد نا اہلی کی سزا سنائی گئی تھی۔ یہ کہنا درست نہیں کہ وزیراعظم کو سزا خط نہ لکھنے پر دی گئی۔سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلے میں چھبیس اپریل کے بعد یوسف رضا گیلانی کے بطور وزیراعظم تمام اقدامات غیر ائینی قرار دیئے ہیں تاہم حکومت چاہے تو معاملہ پارلیمنٹ کو بھجوا سکتی ہے۔تفصیلی فیصلےمیں جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین کے اضافی نوٹس بھی شامل ہیں جو بتیس صفحات پر مشتمل ہیں۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے لکھا ہے کہ آئین پارلیمنٹ سمیت تمام اداروں سے بالاتر ہے۔ پارلیمنٹ کی بالادستی کا برطانوی نظریہ پاکستان میں قابل عمل نہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ اسپیکررولنگ کوعدالتی نظرثانی سےماوراقرارنہیں دیا جاسکتا۔ جسٹس خلجی عارف حسین نے نوٹ لکھا ہے کہ وزیراعظم کے خلاف شواہد کی روشنی میں نااہلی کا فیصلہ کیا گیا۔ اگروزیراعظم قانون سےانحراف کریں گے تو عوام کیسے قانون پر عمل کریں گے۔

About the author /

Waqt News

Waqt News Web Team

Most Popular