تربت میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے 20 مزدور جاں بحق

تربت میں نامعلوم مسلح افراد  کی فائرنگ سے 20 مزدور جاں بحق

پولیس کے مطابق مسلح افراد موٹرسائیکلوں پر سوار تھے اور انھوں نے رات گئے ان مزدوروں کے کیمپ پر فائرنگ کردی،ہلاک ہونے والوں کی لاشوں اور واقعے میں زخمی ہونے والے مزدوروں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال تربت منتقل کیا گیا ہے، کمشنر مکران کے مطابق جاں بحق سولہ مزدوروں کا تعلق صادق آباد جبکہ چار کا حیدر آباد سندھ سے ہے۔کمشنر مکران نے کہا کہ واقعے میں زخمی ہونے والوں کوبہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔انھوں نے واضح کیا کہ واقعے کے بعد پولیس اورسیکیورٹی اداروں نےعلاقےکوگھیرےمیں لے کرعلاقےمیں موجودتمام چوکیوں اورناکوں کوہائی الرٹ کردیا ہے۔کمشنر مکران کا کہنا ہے کہ واقعہ رات ڈیڑھ بچے پیش آیا تھا۔ صدر مملکت ممنون حسین ،وزیر اعظم نوازشریف وزیر داخلہ ، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی، متحدہ کے قائد الطاف حسین اور دیگر رہنماؤں کی تربت واقعے کی مذمت وزیراعظم نواز شریف نےتربت واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دیدیا ۔وزیراعظم نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ذمے داروں کو کٹہرے میں لائیں۔دوسری طرف وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالماک بلوچ گوادر کا دورہ مختصر کرکے تربت پہنچ گئے۔ترجمان وزیر اعلی بلوچستان کے مطابق وزیر اعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے تربت میں مزدوروں کے قتل کی مذمت کی ہے۔ا نہوں نے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی اور انتظامیہ کو ملزمان کی فوری گرفتاری کی ہدایت کردی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے امن وامان سے متعلق اعلیٰ سطح کااجلاس طلب کرلیا۔ صوبائی کی جانب سے جاں بحق اور زخمیوں کی مالی امداد کا بھی اعلان کیا ہے،،، ادھروزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف، وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ، وزیر اعلی خیبر پی کے پرویز خٹک گورنر مہتاب احمد خان اور وفاقی وزیرداخلہ نے بھی تربت میں فائرنگ سے مزدوروں کے قتل کے واقعہ کی شدیدمذمت کی ہے۔ چوہدری نثار نے بلوچستان انتظامیہ سے واقعے کی رپورٹ بھی مانگ لی ہے ادھر متحدہ کے قائد الطاف حسین اور دیگر رہنماؤں نے تربت واقعے کی مذمت کی ہے -

About the author /

Waqt News

Waqt News Web Team

Most Popular