حکومت نے توہین عدالت ترمیمی بل دو ہزار بارہ سینیٹ میں پیش کردیا، بل کی منظوری کیلئے قواعد و ضوابط معطل کرنے کی تحریک پیش کئے جانے پر اپوزیشن کی جانب سے شدید مخالفت کی گئی۔

حکومت نے توہین عدالت ترمیمی بل دو ہزار بارہ سینیٹ میں پیش کردیا، بل کی منظوری کیلئے قواعد و ضوابط معطل کرنے کی تحریک پیش کئے جانے پر اپوزیشن کی جانب سے شدید مخالفت کی گئی۔

سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ نیئر حسین بخاری کی زیر صدارت ہوا، وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے توہین عدالت میں ترمیم کا بل دو ہزار بارہ پیش کیا، بل کی منظوری کیلئے قواعد و ضوابط معطل کرنے کی تحریک بھی پیش ہوئی جس پر مسلم لیگ نون کی جانب سے شدید مخالفت کی گئی۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ملک میں ایسی کیا ایمرجنسی ہے کہ قواعد معطل کرکے بل منظور کیا جائے، توہین عدالت بل پر تحریک واپس لے کر دو دن کا وقت دیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ توہین عدالت کے ترمیمی بل کی بھرپور مخالفت کرتے ہیں، بل منظور بھی کرلیا گیا تو کوشش کریں گے کہ آئین کا حصہ نہ رہے۔ نون لیگ کے سینیٹر کا کہنا تھا کہ توہین عدالت کا ترمیمی بل عوام کے منہ پر طمانچہ ہے، ایسے کام نہ کریں جس سے پارلیمنٹ کی توقیر کم ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سمجھ نہیں آتی کہ حکومت کو ایسے احمقانہ مشورے کون دیتا ہے۔ اس موقع پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اپوزیشن اراکین کے علاوہ سینیٹر اعتزاز احسن اور سینیٹر میاں رضا ربانی نے بھی بعض شقوں پر تحفظات کا اظہار کیا۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر میر حاصل بزنجو نے کہا کہ بل کو قائمہ کمیٹی کے سپرد کرکے بحث کی جائے جبکہ سینیٹر رفیق رجوانہ کا کہنا تھا کہ کل وزیراعظم کا معاملہ سپریم کورٹ میں ہے شاید اس لئے بل پیش کیا گیا۔ واضح رہے کہ توہین عدالت میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پہلے ہی منظور ہوچکا ہے۔

About the author /

Waqt News

Waqt News Web Team

Most Popular