حکومت نے سرکاری محکموں میں اعلی عہدوںپر36ریٹائرڈ افسر تعینات کردیئے۔

حکومت نے سرکاری محکموں میں اعلی عہدوںپر36ریٹائرڈ افسر تعینات کردیئے۔

میرٹ کے ساتھ یہ کھلا مذاق دارالحکومت اسلام آباد میں حکمرانوں کی ناک کے نیچے ہورہاہے جہاں گریڈ بائیس کے اٹھارہ، گریڈ اکیس کے دس اور گریڈ بیس کے آٹھ افسر ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ فرائض انجام دے رہے ہیں۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق جن افسروں کو ریٹائر منٹ کے بعد دوبارہ رکھا گیا ہے ان میں اسپیشل سیکرٹری پریزیڈنٹ سیکرٹریٹ نسرین حق چار جون کو ریٹائر ہوئیں لیکن انہیں مزید دو برس کے لیے دوبارہ تعینات کردیا گیا ہے۔ منیر احمد اسپیشل سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی خدمات بھی انتیس اپریل سے دوبارہ حاصل کرلی گئی ہیں۔سیکرٹری لااینڈ جسٹس ڈویژن میں مسز یاسمین عباسی گیارہ اپریل دو ہزار چودہ اورفیڈرل پبلک سروس کمیشن کے منصور سہیل بھی مزید دو سال تک خدمات انجام دیں گے۔ اسی طرح سیکرٹری ڈیفینس پروڈکشن لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ شاہد اقبال کی خدمات بھی دوبارہ حاصل کرلی گئیں۔ایشیائی ترقیاتی بینک منیلا میں تعینات ایگزیکٹو ڈائریکٹرسراج ایس شمس الدین کی خدمات بھی چھبیس نومبر دو ہزار گیارہ سے پچیس نومبر دو ہزار تیرہ تک دوبارہ لی گئیں۔ممبر فیڈرل پبلک سروس کمیشن معین الاسلام بخاری بیس ستمبر دو ہزار چودہ تک کام کریں گے،سنیئر جوائنٹ سیکرٹری لاءاینڈ جسٹس اینڈ پارلیمنٹری افئیرز ریاض محمود کو بھی تیرہ جو لائی سے مزید ایک سال کے لئے دوبارہ ملازمت پر رکھ لیا گیا۔اس کے علاوہ گریڈ اکیس کے مزید چار افسران کنٹریکٹ کی بنیاد پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں ان میں شفیق احمد خان چیف انسٹرکٹر نیشنل مینجمنٹ کالج لاہور،مرزا شمس الحسن دائریکٹنگ سٹاف نیشنل مینجمنٹ کالج لاہور،توقیر احمد ڈی جی نیشنل انسٹیٹوٹ آف مینجمنٹ کراچی اور نعمت اللہ عابد ڈی جی نیشنل انسٹیٹوٹ مینجمنٹ پشاور شامل ہیںدوسری طرف انہی اسامیوں کے لیے تیس اہل افراد باہر بیٹھے اپنی باری کے منتظر ہیں۔

About the author /

Waqt News

Waqt News Web Team

Most Popular