بلوچستان انتظامیہ نے ڈیرہ بگٹی میں لڑکیوں کو ونی کرنے کے واقعہ سے انکارکردیا. کسی ایڈووکیٹ جنرل کے کہنے پر کیس ڈسچارج نہیں کرسکتے۔ چیف جسٹس

بلوچستان انتظامیہ نے ڈیرہ بگٹی میں لڑکیوں کو ونی کرنے کے واقعہ سے انکارکردیا. کسی ایڈووکیٹ جنرل کے کہنے پر کیس ڈسچارج نہیں کرسکتے۔ چیف جسٹس

بلوچستان امن وامان کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں ڈیرہ بگٹی میں لڑکیوں کو ونی کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان امان اللہ کنرائی نے ایک بار پھر واقعہ سے انکارکرتے ہوئے کہا کہ اگر اس حوالے سےکبھی کوئی ثبوت ملے تو ریکارڈ پر لائے جائیں گے۔ جس پرچیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کنرائی کو ڈیرہ بگٹی پہنچائیں یہ انہی کا علاقہ ہے، اس پر امان اللہ کنرائی نےجواب دیا کہ یہ میرا نہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کاکام ہے۔ آپ بھی حکم جاری کرسکتے ہیں ہر جگہ جاکر قانون کا نفاذ نہیں کرسکتے۔ چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل کی سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ ہمیں لیکچر نہ دیں ہم اپنا کام جانتے ہیں۔ امان اللہ کنری نے کہا کہ معاملے سے عدالت کاوقت ضائع ہوا اس لیے اسے خارج کیا جائے ۔اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایک ایڈووکیٹ جنرل کے کہنے پر کیس ڈسچارج نہیں کرسکتے، تحقیقات کیلئے ڈیرہ بگٹی بھی جاسکتے ہیں،معاملے سے تیرہ لڑکیوں کی زندگیاں متاثر ہوئیں۔ سماعت کے آغاز پرڈپٹی کمشنرڈیرہ بگٹی نے لڑکیوں کو ونی کرنے کے واقعہ سے انکارکرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں روشن خان اور ایک اور شخص کا نام لیاگیا ہےجواس علاقے میں نہیں ہے۔ جسٹس خلجی عارف نے ونی کا دعویٰ کرنے والے شخص سرفراز بگٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے انہیں بدنام کرنے کے لیے خبر پھیلائی ہے، جس پر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ہم کسی کو بدنام نہیں کررہے، وہاں اور بھی قبائلی ہیں ان سے پوچھا جاسکتا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ شواہد پیش نہ کیے گئے توتوہین عدالت لگ سکتی ہے۔ سیکرٹری داخلہ بلوچستان نے کہا کہ وہ معاملے کو دیکھیں گے عدالت اس سلسلے میں مہلت دے۔ واقعہ میں جوبھی ملوث ہیں ان کو سامنے لائیں گے۔ عدالت نے سماعت انیس اکتوبرتک ملتوی کرتے ہوئے صوبائی سیکرٹری داخلہ سے واقعہ کی مکمل رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔

About the author /

Waqt News

Waqt News Web Team

Most Popular