سپریم کورٹ میں سپیکر رولنگ کیس میں اٹارنی جنرل نے بینچ پرعدم اعتماد کا اظہار کردیا

سپریم کورٹ میں سپیکر رولنگ کیس میں اٹارنی جنرل نے بینچ پرعدم اعتماد کا اظہار کردیا

سپیکرکی رولنگ کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی ۔عمران خان کے وکیل حامد خان نے کہا ہے کہ چوبیس مئی کی سپیکرکی رولنگ میں عدالتی حکم کےبرعکس عمل کیا گیا۔ عدالتی فیصلے کے بعد وزیراعظم رکن قومی اسمبلی اور وزیراعظم کے عہدے کے اہل نہیں رہے۔ وزیراعظم نے نہ تواپیل دائرکی اورنہ سزامعطل کرنے کا کہا۔ وکیل اے کے ڈوگر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے وزیر اعظم گیلانی کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیا۔ وزیر اعظم کی نااہلیت کامعاملہ عدالتی فیصلے کے بعد حل ہوگیا ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صرف میرٹ پر دلائل دیں ۔اس موقع پر اٹارنی جنرل کے اعتراض پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کیا اور دونوں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آپ جانبدار لگ رہے ہیں بینچ سے علیحدہ ہوجائیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس کیس کا فیصلہ عدالت کرے گی۔ آپ یہ بات کہنے کے مجاز نہیں ۔ چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ تمام فریقین اپنے نکات تحریری صورت میں عدالت کو دیں۔ سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے تمام فریقین کو نوٹس جاری کرنے کے چھ جون کے فیصلے پر نظر ثانی کی استدعا بھی کی جسے عدالت نے مسترد کردیا۔

About the author /

Waqt News

Waqt News Web Team

Most Popular