دو ہزار نو میں صدر زرداری اور بلاول بھٹو سے ملاقات ہوئی تھی ،جنرل پاشا سے ملاقات کے بعد آئی ایس آئی کے بارے میں سوچ بدلی. منصور اعجاز

دو ہزار نو میں صدر زرداری اور بلاول بھٹو سے ملاقات ہوئی تھی ،جنرل پاشا سے ملاقات کے بعد آئی ایس آئی کے بارے میں سوچ بدلی. منصور اعجاز

بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ،جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں میمو کمیشن کا اجلاس جاری ہے جب کہ وڈیو لنک کے ذریعے اٹارنی جنرل مولوی انوالحق نے منصور اعجاز پر جرح مکمل کرلی ہے۔جسٹس فائز عیسی نے منصور اعجاز سے استفسار کیا کہ وہ اپنا وقت ، پیسہ اور صلاحیتیں استعمال کر کے میمو کی حقیقت کیوں سامنے لانا چاہتے ہیں ۔ منصور اعجاز نے کہا کہ جب لوگ اتنے بڑے سچ کو چھپانے کی کوشش کریں تو دکھ ہوتا ہے ، انہیں یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ حسین حقانی صدر زرداری کا متبادل بننا چاہتے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ رحمان ملک نے انہیں گرفتار کرنے کی دھمکیاں دیں جسکے باعث انکے بزنس اور بینکنگ کے معاملات خراب ہوئے ۔ منصور اعجاز نے بتایا کہ جنرل پاشا سے ملاقات کے بعد آئی ایس آئی سے متعلق رائے تبدیل ہوئی۔ملاقات سے پہلے جنرل پاشا کو نہیں جانتا تھا ۔ جنرل پاشا قابل احترام آدمی ہیں اور وہ سچ تلاش کرنا چاہتے ہیں ۔جنرل پاشا نے بتایا کہ آرمی چیف اور آئی ایس آئی چاہتی ہے کہ حکومت مدت پوری کرے۔جسٹس فائز عیسی نے پوچھا کہ انہیں اس بات کی تصدیق کیسے ہوئی کہ میمو کی منظوری دینے والے صدر زرداری ہیں تو منصور اعجاز نے کہا کہ وہ اس بات کے بارے میں نہیں جانتے تھے ۔ حسین حقانی نے انہیں بتایا کہ صدر زرداری کی مرضی سے میمو لکھا جا رہا ہے ۔ منصور اعجاز نے کہا کہ انہوں نے بعد میں اپنے ذرائع سے اسکی تصدیق کی ۔ انہوں نے کہا کہ انکے ذرائع خفیہ ایجنسیوں کے اہم عہدوں پر کام کر رہے ہیں اسلئے انکا نام نہیں بتا سکتا۔ جسٹس فائزعیسی نے کہا کہ انہوں نے اپنے مضمون میں لکھا کہ دو مئی کے واقعے کے بعد فوج شرمندہ تھی تو فوجی بغاوت کا کس طرح خدشہ تھا۔ منصور اعجاز نے کہا کہ فوجی بغاوت کا تاثر حسین حقانی نے دیا تھاجسکی بعد میں انہوں نے تصدیق کی تھی۔ اس سے قبل جرح کے دوران اٹارنی جنرل نے منصور اعجاز سے پوچھا کہ کیاپانچ مئی دو ہزار نو کو ان کی صدر زرداری سے نیو یارک میں ملاقات کا دعویٰ درست ہے ؟ جس پر منصور اعجاز نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ صدر زرداری سے ان کی ملاقات نیویارک میں نہیں، واشنگٹن میں ہوئی تھی جس میں ان کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری بھی موجود تھے۔ اٹارنی جنرل نے منصور اعجاز سے استفسار کیا کہ کیا وہ امریکی ٹی وی سی این این کے لئے بھی مضامین لکھتے رہے ہیں، منصور اعجاز نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ عید کے مواقعوں پر انھوں نے سی این این کے لئے لکھا ہے۔جرح کے دوران اٹارنی جنرل نے کہا کہ کیا آپ مانتے ہیں کہ میمو جھوٹ کا پلندہ ہے ، آپ نے کہانی اچھی گھڑی ہے لیکن تھوڑی سی بچگانہ ہے ۔ اس پر منصور اعجاز نے کہ کہ وہ اعلی تعلیم یافتہ ہیں ، میمو سے ذاتی مفادات نہیں ، حسین حقانی کے کہنے پر لکھا صدر اور وزارت خارجہ نے بھی تردید نہیں کی ، میمو نہ ہی کوئی ڈرامہ ہے نہ ہی اس میں حقائق مسخ کئے گئے ہیں۔ جرح سے قبل منصور اعجاز کے وکیل اکرم شیخ کی جانب سے اٹارنی جنرل کی جرح پر اعتراض کیا گیا جسے کمیشن نے مسترد کر دیا ۔ ادھر حسین حقانی کے وکیل زاہد حسین بخاری نے کمیشن سے درخواست کی کہ حسین حقانی کا بیان اور ان پر جرح برطانیہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے کی جائے۔ جس پر جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ حسین حقانی سپریم کورٹ کے سامنے چار دن کے نوٹس پر پاکستان آنے کی یقین دہانی کرا چکے ہیں۔ کمیشن انہیں پاکستان آنے کے لئے پندرہ روز قبل نوٹس دے چکا ہے۔

About the author /

Waqt News

Waqt News Web Team

Most Popular