این آر او کو پارلیمنٹ نے مسترد کیا تھا، جن لوگوں کے خلاف فوجداری مقدمات کھولے گئے وہ بھی نظر ثانی کے لیے عدالت نہیں آئے تو پھر حکومت کو اس میں کیا دلچسپی ہے؟۔ چیف جسٹس

این آر او کو پارلیمنٹ نے مسترد کیا  تھا، جن لوگوں کے خلاف فوجداری مقدمات کھولے گئے وہ بھی نظر ثانی کے لیے عدالت نہیں آئے تو پھر حکومت کو اس میں کیا دلچسپی ہے؟۔ چیف جسٹس

سپریم کورٹ نے این آر او نظرثانی کیس میں بابر اعوان کواپنا مؤقف پیش کرنے کی اجازت دے دی ہے جبکہ سابق وکیل کمال اظفر کوبھی کل طلب کرلیاگیا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے ہیں کہ وفاقی حکومت ایک ڈکٹیٹر کے بنائے گئے کالے قانون کا دفاع کیوں کرنا چاہتی ہے۔ چیف جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سترہ رکنی فل کورٹ بینچ نے این آر او نظرثانی کیس کی سماعت کی۔ حکومت کی طرف سے بابراعوان کو وکیل بنانے کی درخواست پرنامزدوکیل بابراعوان نے کہاکہ اب تک کئی اہم پیشرفت ہوئی ہیں اورکمال اظفر کی جگہ وکیل بننے والے لطیف کھوسہ بھی گورنر بن گئے ہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ لطیف کھوسہ کو کس بنیاد پروکیل مقرر کیا گیا جس پربابر اعوان نے کہا کہ کمال اظفر کو وزیر اعظم کا مشیر بنادیا گیا تھا اس لیے لطیف کھوسہ کو مقرر کیا گیا۔ چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ کمال اظفر کو سماعت سے چند روز قبل مشیر بنایا گیا انہیں یہ عہدہ کتنی مدت کے لیے دیا گیا ہے؟ جس پربابر اعوان کا کہنا تھا کہ کمال اظفر کو مختصر مدت کے لیے مشیر بنایا گیا ہے۔ چیف جسٹس نےریمارکس دیئے کہ این آر او کو پارلیمنٹ نے مسترد کیا تھا،جن لوگوں کے خلاف فوجداری مقدمات کھولے گئے وہ بھی نظر ثانی کے لیے عدالت نہیں آئے تو پھر حکومت کو اس میں کیا دلچسپی ہے؟ سپریم کورٹ نے بابر اعوان کو اپنا مؤقف پیش کرنے کی اجازت دیتے ہوئئے کمال اظفر کو ملنے والی دھمکیوں اور سابق اٹارنی جنرل کو ہٹانے کے حوالے سے وفاق کو تحریری موقف پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے کمال اظفر کو طلب کرتے ہوئےمقدمے کی مزید سماعت کل تک ملتوی کردی۔ سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر بابر اعوان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اپنا آئینی حق استعمال کرتے ہوئےانہیں وکیل نامزد کیا ہے تاہم عدالت نے ابھی انہیں بطور وکیل وفاق کی نمائندگی کی اجازت نہیں دی۔

About the author /

Waqt News

Waqt News Web Team

Most Popular