این آر او عملدرآمد کیس:سپریم کورٹ نے وزیراعظم کو اٹھارہ ستمبر تک مہلت دےدی.

این آر او عملدرآمد کیس:سپریم کورٹ نے وزیراعظم کو اٹھارہ ستمبر تک مہلت دےدی.

سپریم کورٹ میں این آراوعملدرآمد کیس کی سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت توہین عدالت کا شوکازنوٹس واپس لینے کی درخواست کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وہ چین جارہے ہیں اگر اس شو کاز نوٹس کے ساتھ گیا تو کیا تاثر پڑے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ وہ یقین دہانی کراتے ہیں کہ اس مسئلے کاحل نکال لیا جائیگا، انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ چودہ ستمبر تک بیرون ملک ہوں گے لہٰذہ انہیں مزید مہلت دی جائے ،وزیراعظم نے عدالت سے وقت مانگنے کی استدعا کی کہ وہ ساٹھ دن پہلے وزیر اعظم بنے گیلانی کو ساڑھے چار سال دئیے گئے اس پرسپریم کورٹ نے بائیس دن کیلئے سماعت ملتوی کرتے ہوئے وزیراعظم کواٹھارہ ستمبرکودوبارہ طلب کرلیا۔ سماعت سے قبل وزیرقانون فاروق نائیک نے چار صفحاتی تحریروزیراعظم کو دی جس کے بعد راجہ پرویزاشرف نے روسٹرم پر آکر کہا کہ عدالت کے بلانے پر وہ اپنے سے پہلے وزیراعظم کی طرح پیش ہوگئے ہیں۔ ، انہوں نے کہا کہ وہ عدالت کا احترام کرتے ہیں اورہر گز عدلیہ کی نافرمانی کا تاثر نہیں دینا چاہتے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دئیے کہ ہماری تاریخ ہے کہ خلیفہ وقت بھی عدالت میں آئے ہیں،آپ باوقار قوم کے باوقار وزیراعظم ہیں،آپ یہاں ملزم کی حیثیت سے نہیں آئے ہیں،جسٹس آصف سعید کھوسہ نے یہ بھی ریمارکس دئیے کہ عدالت میں آجانا احترام نہیں بلکہ اِس کے فیصلوں پر عمل درآمد اس کا احترام کرنا ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا سیاست کا نام ہی ایڈجسٹمنٹ ہے،آپ کمٹمنٹ دیں ، آئندہ انتخابات تک آپ ہی وزیراعظم رہیں گے، وزیراعظم نے کہا کہ سفارت کار ان سے اس کیس کے بارے میں پوچھتے رہتے ہیں اس لئے وہ غیریقینی صورتحال کو ختم کرنے کی ہرممکن کوشش کریں گے ، انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ایسی راہ ضرور نکلے گی کہ جس سے عدلیہ کا وقار بلند ہوگا ، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس میں کہا کہ عدلیہ کی سے محاذ آرائی نہیں این آر او کے کالعدم ہونے کے بعد ان مقدمات کی بحالی ضروری ہے، عدالت نے مزید کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ وزیراعظم نے خود خط لکھنا ہوتا ہے، وزیر اعظم یقین دہانی کرائیں کہ کسی شخص کو خط لکھنے کا اختیار دے رہے ہیں، عدالت سہولت دینے کو تیارہے، عدالت نے وزیراعظم سے کہا کہ وہ مثبت کمٹمنٹ دیں پھرآرام سے بیرونی دوروں پرجائیں ورنہ مزید پیچیدگیاں پیدا ہوں گی،

About the author /

Waqt News

Waqt News Web Team

Most Popular