ستائیس دسمبردوہزارسات کی شام مسلم دنیااورملک کی پہلی خاتون وزیراعظم،ایک سابق وزیراعظم کی بیٹی اور سابق صدرکی اہلیہ،دودفعہ وزیراعظم رہنےوالی شہید محترمہ بینظیربھٹوکوبیس دیگرکارکنوں کےہمراہ راولپنڈی میں ہمیشہ کےلئےخاموش کردیا گیا۔

ستائیس دسمبردوہزارسات کی شام مسلم دنیااورملک کی پہلی خاتون وزیراعظم،ایک سابق وزیراعظم کی بیٹی اور سابق صدرکی اہلیہ،دودفعہ وزیراعظم رہنےوالی شہید محترمہ بینظیربھٹوکوبیس دیگرکارکنوں کےہمراہ راولپنڈی میں ہمیشہ کےلئےخاموش کردیا گیا۔

شہید محترمہ بینظربھٹو کی شہادت کوسات برس گزرچکے ہیں تاہم اس ہردلعزیزاورعالمی سطح کی قومی رہنما کی شہادت میں ملوث سفاک قاتلوں کوابھی تک سزا نہیں مل سکی، نہ ہی ان کےقتل کی تحقیقات سے عوام کو آگاہ کیا گیا ہے۔عبد الغفور حیدری)موجودہ حکومت کا کہنا ہےکہ محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اوران کےقاتلوں کوکیفرکردارتک پہنچانے کی ذمہ داری پیپلزپارٹی کی سابق حکومت کی تھی۔سید ظفر علی شاہ) دوسری جانب سابق وزیرداخلہ اورشہید محترمہ کے سانحہ کے وقت کےمشیرسیکیورٹی رحمان ملک کاکہناہےکہ تحقیقات مکمل ہوچکی ہیں،صرف مجرموں کو سزا دینے کا انتظارہے۔رحمان ملک)پاکستانی تاریخ میں دوسابق وزرائے اعظم سمیت بےشمار سانحہ ہوئے۔سیاستدانوں،قومی رہنماوں کا قتل ہوا،ہرمرتبہ تحقیقاتی کمیشن بنے،گرفتاریاں ہوئیں،رپورٹس تیارہوئی،تاہم کسی مجرم کوپھانسی ہوئی ناہی کوئی تحقیقاتی رپورٹ عوام تک پہنچ سکی۔ ( عبد الغفور حیدری کمیشن کے بارے میں سیاسی رہنماؤں کا نقطہ نظراپنی جگہ،تاہم سابق وزیراعظم شہید بےنظیربھٹوکےقاتلوں کوسات برس بعد بھی کیفرکردار تک نہیں پہنچایاجاسکا اوران کوسزا نہ ملنا اب تک ایک سوالیہ نشان ہے۔ کیمرہ ٹیم کے ساتھ انور عباس، وقت نیوز اسلام آباد

About the author /

Waqt News

Waqt News Web Team

Most Popular