این آر او عملدرآمد کیس، عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہوا تووزیراعظم ایک اور توہین عدالت کے مرتکب ہوں گے۔ جسٹس گلزار

این آر او عملدرآمد کیس، عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہوا تووزیراعظم ایک اور توہین عدالت کے مرتکب ہوں گے۔ جسٹس گلزار

اين آر او عمل درآمد کيس کی سماعت جسٹس ناصر الملک کی سربراہی ميں سپریم کورٹ کے سات رکنی بينچ نے کی۔جسٹس ناصرالملک نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ وزیراعظم کو بغیر ایڈوائس سوئس حکام کو خط لکھنے کا حکم دیا تھا اس کا کیا بنا؟ جس پراٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی جاری ہے جس میں دیکھا جا رہا ہے کہ سوئس حکام کو خط لکھنے کا معاملہ قابل عمل ہے یا نہیں۔ اس لیے توہین عدالت کیس کے فیصلے تک این آر او پر عملدرآمد کے احکامات موخر کیے جائیں۔ اس پر جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ توہین عدالت کی کارروائی جاری رہنے سے وزیراعظم عملدرآمد کے احکامات سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئےکہ توہین عدالت کارروائی میں صرف یہ دیکھنا ہے کہ وزیراعظم نے توہین عدالت کی ہے یا نہیں۔ جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ عدالتی حکم پرعمل درآمد نہ ہوا تووزیراعظم ایک اور توہین عدالت کے مرتکب ہوں گے۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ وزیراعظم سے این آر اوعملدرآمد کی رپورٹ مانگی گئی تھی مگر انہوں نے التوا کی درخواست کر دی،خط لکھنے کے فیصلے پر عمل نہ کرنے پر وزیراعظم کے خلاف سولہ اپریل کو مناسب حکم جاری کیا جائے گا۔ دوسری جانب نیب نے سپریم کورٹ سے عدنان خواجہ اور احمد ریاض شیخ کے خلاف کارروائی کی رپورٹ پیش کرنے کے لیے دس اپریل کی مہلت مانگی جسے عدالت نے منظور کرلیا۔

About the author /

Waqt News

Waqt News Web Team

Most Popular