سپریم کورٹ کا میمو کمیشن کی مدت میں چھ ہفتے کی توسیع ، چار روز کے عدالتی نوٹس پرحسین حقانی کی پاکستان واپسی کا حکم بھی برقرار۔

سپریم کورٹ کا میمو کمیشن کی مدت میں چھ ہفتے کی توسیع ، چار روز کے عدالتی نوٹس پرحسین حقانی کی پاکستان واپسی کا حکم بھی برقرار۔

میمو کمیشن کو تحقیقات کیلئے مزید وقت دینے کی درخواست کی سمات چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل کی عدم موجودگی پر چیف جسٹس نے اظہار برہمی کیا ۔ چیف جسٹس نےریمارکس دیئے کہ دس جج بیٹھے ہیں،اٹارنی جنرل کو پہلے سے موجود ہونا چاہیے تھا۔بعد ازاں اٹارنی جنرل نے تاخیر سے پہنچے پرعدالت سے معذرت کرلی۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کمیشن کی مدت میں توسیع کی درخواست کی گئی ہے مزید کتنا وقت دیا جائے؟ اٹارنی جنرل نے کمیشن کی مدت بڑھانے کی حمایت کرتے ہوئے چھ ہفتوں کی توسیع کا کہا۔ سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کی سفارش پر کمیشن کی مدت میں مزید چھ ہفتوں کی توسیع کرتے ہوئے جلد از جلد کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ حسین حقانی کی ویڈیو لنک پر بیان ریکارڈ کرانے کی درخواست پر ایڈووکیٹ آن ریکارڈ چوہدری افضل نے عدالت کو بتایا کہ عاصمہ جہانگیر بیرون ملک ہیں اس لیے سماعت سترہ اپریل تک مؤخر کی جائے۔ چیف جسٹس نےدوبارہ سماعت کے لیے عاصمہ جہانگیر کو ایک اور درخواست جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حسین حقانی کو خطرات ہیں تو سپریم کورٹ کو درخواست دیں۔ عدالت نے چار روز کے عدالتی نوٹس پر حسین حقانی کےپاکستان آنے کا سابقہ حکم بھی برقراررکھا۔

About the author /

Waqt News

Waqt News Web Team

Most Popular