اے پی سی آج ہو گی‘ سیاسی و عسکری قیادت شرکت کریگی‘ صدر وزیراعظم کیانی کی ملاقات‘ ایجنڈے پر مشاورت

اے پی سی آج ہو گی‘ سیاسی و عسکری قیادت شرکت کریگی‘ صدر وزیراعظم کیانی کی ملاقات‘ ایجنڈے پر مشاورت

اسلام آباد/ لاہور (وقائع نگار خصوصی+ نمائندہ خصوصی+ خصوصی رپورٹر) امریکی حکام کی جانب سے پاکستان کے خلاف الزام تراشی اور دھمکی آمیز بیانات سے پیدا ہونے والی صورتحال پر غور کے لئے آل پارٹیز کانفرنس آج وزیراعظم کی زیرصدارت اسلام آباد میں ہو گی۔ اے پی سی میں نوازشریف سمیت 50 سے زائد اہم سیاسی و مذہبی قائدین، عسکری قیادت شرکت کرے گی۔ حنا ربانی کھر پاکستان امریکہ تعلقات میں پائی جانے والی کشیدگی جبکہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل شاع پاشا، قومی سلامتی اور خودمختاری کو لاحق خطرات کے بارے میں بریفنگ دیں گے۔ریڈیو مانیٹرنگ کے مطابق ایوان صدر میں صدر آصف زرداری وزیراعظم یوسف گیلانی اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی ملاقات ہوئی۔ ترجمان ایوان صدر کے مطابق اس ملاقات میں ملک کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایوان صدر میں ہونے والی یہ ملاقات دو گھنٹے تک جاری رہی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں اے پی سی کے ایجنڈے پر مشاورت کی گئی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں عسکری اور وزارت خارجہ کے حکام نے شرکت کی۔ اے پی سی کے پیش نظر اسلام آباد میں سکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس آج 2 بجے بعد دوپہر وزیراعظم کی زیر صدارت ہو گی، وزیراعظم نے مسلم لیگ (ضیائ) پیپلز پارٹی (ش۔ ب) اور سندھ اور بلوچستان کے قوم پرست لیڈروں کو مدعو نہیں کیا۔ آل پارٹیز کانفرنس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی خالد شمیم وائیں‘ پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی شرکت کریں گے۔ اجلاس کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا جس میں اس عزم کا اعادہ کیا جائے گا پوری قوم مشکل گھڑی میں مسلح افواج کی پشت پر کھڑی ہو گی اور ممکنہ جارحیت کے خلاف پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہو گی۔ نوازشریف، عمران خان، سید منور حسن کانفرنس میں شرکت کے لئے اسلام آباد چلے گئے۔ حکومتی ذرائع نے کہا ہے کہ کل جماعتی کانفرنس کے چار نکاتی ایجنڈے میں پاکستان امریکہ تعلقات کی موجودہ نوعیت، داخلی و بیرونی سلامتی کی صورتحال، خطے کے حالات و خارجہ پالیسی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا آئندہ کا کردار شامل ہے۔ وزیراعظم ہاﺅس کے ترجمان کے مطابق تمام قومی رہنماﺅں نے کل جماعتی کانفرنس میں شرکت کی تصدیق کر دی ہے۔ آن لائن کے مطابق ملکی سالمیت اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے کانفرنس میں متفقہ قرارداد منظور کئے جانے کا بھی امکان ہے۔ آئی این پی کے مطابق وزیراعظم سیاسی قیادت کو موجودہ صورتحال میں حکومت کی پالیسی پر اعتماد میں لیں گے۔ حنا ربانی کھر شرکاءکو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے خطاب اور وہاں قیام کے دوران امریکی ہم منصب ہلیری کلنٹن سمیت دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ سے اپنی ملاقاتوں کے بارے میں اعتماد میں لیں گی۔ ادھر مبصرین کے مطابق اس سے قبل دہشت گردی کے خلاف جنگ اور سلامتی کے امور پر پارلیمنٹ کی جانب سے متفقہ طور پر منظور کردہ قرارداد پر عملدرآمد نہ کئے جانے کے باعث وزیراعظم کو دباﺅ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ وزیراعظم ہاﺅس کی جانب جانے والے تمام راستوں کو سیل کر دیا گیا جبکہ وہاں اضافی اہلکار تعینات کر دئیے گئے اسی طرح تمام ناکوں پر چیکنگ کا عمل سخت کر دیا گیا۔

About the author /

Waqt News

Waqt News Web Team

Most Popular