سکریپ سکینڈل میں ملوث جنرل منیجر ریلوے سعید اختر کو چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا ۔

سکریپ سکینڈل میں ملوث جنرل منیجر ریلوے سعید اختر کو چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا ۔

جی ایم ریلوے کو ہتھکڑیاں لگا کرلاہور کی احتساب عدالت نمبر تین کے جج علی حسن رضوی کے روبروپیش کیا گیا۔ دوران سماعت نیب نے مؤقف اختیار کیا کہ جی ایم ریلوے سعید اختر نے سکریپ سکینڈل میں کروڑوں روپے کی کرپشن کی۔ ان سے رقم کی وصولی اور سکینڈل سے متعلق اہم معلومات حاصل کرنی ہیں اس لیے ملزم کا چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔دوسری جانب سعید اختر کے وکیل اسد منظور بٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ سعید اختر نے کرپشن نہیں کی، ان پر سکینڈل میں ریلوے کے اعلیٰ عہدیداران کا نام لینے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا انکار پر پھنسایا جارہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے مؤکل کرپشن میں ملوث نہیں وہ صرف اپنی اتھارٹی قائم رکھنے میں ناکام رہے ہیں ۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے جی ایم ریلوے کو چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کرتے ہوئے ملزم کو چودہ اپریل کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے تفتیشی افسر کو سعید اختر کا مکمل بیان ریکارڈ کرکے رپورٹ آئندہ سماعت پر پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔ سعید اختر پر اکیس ہزارٹن ریلوے سکریپ بارہ ہزار روپے فی ٹن سستا فروخت کرنے کا الزام ہے۔ سکینڈل میں ملوث شریک ملزمان زاہد خان ، شبیر، شکیل اور خالد نور سے پلی بارگیننگ ہوچکی ہے جبکہ سعید اختراورخالد محی الدین نیب کی حراست میں ہیں۔

About the author /

Waqt News

Waqt News Web Team

Most Popular