جاپان میں زیرِ تربیت غیرملکی ملازمین کے تحفظ کا قانون نافذ

جاپان میں زیرِ تربیت غیرملکی ملازمین کے تحفظ کا قانون نافذ

جاپان میں غیرملکی زیرِتربیت ملازمین سے ناروا سلوک کی روک تھام کے لیے نیا قانون، نافذ کردی گیا۔ جاپان کے نشریاتی ادارے کے مطابق غیرملکی زیرِتربیت ملازمین کے تحفظ کے لئے نافذ کردہ نیا قانون حد سے زیادہ گھنٹے کام کروانے سے بھی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق جاپان میں تقریباً 2 لاکھ پچاس ہزار غیرملکی افراد کا ملازمت برائے پیشہ ورانہ تربیت پروگرام کے تحت ہے۔نیا قانون مذکورہ پروگرام میں بہتری لانے کے لیے گزشتہ سال نومبر میں منظور ہوا تھا۔ تربیتی پروگرام پر تنقید ہو رہی تھی کہ اسے زیرِ تربیت ملازم افراد سے غیرقانونی طور پر اوور ٹائم کروانے جیسے مزدوری کے ناجائز طور طریقوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔اس قانون کے تحت حکومت نے ایک نیا ادارہ قائم کیا تاکہ تربیت کے لیے غیرملکیوں کو ملازمت دینے والی کمپنیوں اور دیگر اداروں کی رہنمائی اور نگرانی کو کڑا کیا جا سکے۔نئی آرگنائزیشن، کمپنی یا ادارے کے تربیتی پروگرام کو پرکھنے کے بعد فیصلہ کرے گی کہ ا±سے غیرملکی زیرِ تربیت افراد کو قبول کرنے دیا جائے یا نہیں۔زیرِ تربیت افراد سے کام کرانے کے لیے تشدد یا دھمکیوں کا استعمال کرنے والے آجروں کو قید یا جرمانے کی سزا دی جائے گی۔ واضح رہے کہ قانون بےداغ ریکارڈ کی حامل کمپنیوں کو اپنے زیرِ تربیت ملازمین کو 5 سال تک رکھنے کی اجازت بھی دیتا ہے۔طبی دیکھ بھال کے شعبے سے تعلق رکھنے والوں میں بعض کو افراد کوامید ہے کہ یہ قانون محنت کشوں کی سنگین قلت کا مسئلہ حل کرنے میں معاون ثابت ہو گا۔

Most Popular