پاکستان سمیت دنیا بھر میں نمونیا سے بچاﺅ کا دن منایا جارہا ہے جس کا مقصد بچوں کو نمونیے سے بچانے اور احتیاطی تدابیراختیار کرنے سے متعلق آگاہی پیدا کرنا ہے۔

 پاکستان سمیت دنیا بھر میں نمونیا  سے بچاﺅ کا  دن منایا جارہا ہے جس کا مقصد بچوں کو نمونیے سے بچانے اور احتیاطی تدابیراختیار کرنے سے متعلق آگاہی پیدا کرنا ہے۔

ترقی پزیر ممالک میں بڑی تعداد میں بچے نمونیا کی بیماری کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ معمولی کھانسی سے شروع ہونے والی بیماری، خسرہ اور ملیریا سے بھی زیادہ خطر ناک ہے۔ پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر بچوں میں شرح اموات کی سب سے بڑی وجہ نمونیا ہے۔ نمونیا پھیپھڑوں کے انفیکیشن کی بیماری ہے۔ جس کا وائرس بچوں اور بزرگوں سمیت کمزور مدافعت والے افراد کو اپنا شکار بناتا ہے۔ نمونیا کا زیادہ شکار ہونے والے براعظم میں افریقہ سر فہرست ہے۔ مرض سے بچاﺅ کے لیے بچوں کو پیدائش کے ڈیڑھ ماہ بعد، اڑھاِئی ماہ اور ساڑھے تین ماہ بعد نمونیا ویکسین کے ٹیکے لگانا ضروری ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق نمونیا کے مریض کے علاج کے لئے گھریلو ٹوٹکوں پر عمل کرنے کے بجائے مستند ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے تو جان بچانا آسان ہے۔

Most Popular