ممبئی: پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری کی کتاب کی تقریب رونمائی

ممبئی: پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری کی کتاب کی تقریب رونمائی

بھارتی انتہا پسندوں نے ایک بار پھر بھارت کا منہ کالا کرڈال

مودی سرکار کی پاکستان دشمنی پھر بے نقاب، سیکولر بھارت کی انتہا پسند تنظیم شیو سینا نے دلی سرکار کے منہ پر کالک مل دی۔ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ اور خارجہ پالیسی کے ماہر خورشید قصوری کی کتاب اور مصنف سے تعصب و نفرت نے ہندو منتظم کو بھی نہ بخشا۔سابق پاکستانی وزیر خارجہ خورشید قصوری کی کتاب نائدر اے ہاک نور اے ڈوو ،،، این انسائیڈر اکاؤنٹ آف پاکستان فارن پالیسی کی تقریب رونمائی منسوخ کرنے سے انکار پر انتہا پسند ہندوؤں نے آبزرور اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن کے چیئرمین سُدھیندرا کُلکرنی کو تشدد کا نشانہ بنایا پھر ان کے منہ پر سیاہی انڈیل دی۔۔سدھیندرا کُلکرنی انتہا پسندوں کے ہاتھوں منہ کالا کروانے کے بعد اسی حالت میں تقریب میں پہنچ گئے، اور اپنے اوپر ہونے والے اتیاچار سے آگاہ کیا۔۔ خورشید قصوری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سدھیندرا کلکرنی نے کا کہنا تھا کہ وہ انتہاء پسندوں کی دھمکیوں کے باوجود انہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔خورشید قصوری نے سُدھیندرا کے ساتھ ہونے والا واقعہ افسوسناک قرار دیا، دوسری طرف شیو سینا نے انتہائی بے شرمی سے واقعہ کا اعتراف کیا اور کہا کہ آئندہ بھی وہ ایسے ہی کریں گے۔۔

بھارت میں پاکستان مخالف جذبات کو اس حد تک پروان چڑھا دیا گیا ہے کہ نہ وہاں پاکستانی سیاستدانوں کو قبول کیا جا رہا ہے ، نہ فنون لطیفہ سے وابستہ افراد کو سرگرمیوں کی اجازت ہے جبکہ کھیل کی سطح پر تعلقات ایک عرصے سے منقطع ہیں، آج خورشید محمود قصوری کی کتاب کی رونمائی کو روکنے کے لیے ہنگامہ کھڑا کر دیا گیا۔۔ اس پر تجزیہ لیتے ہیں۔۔

بھارت سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویدار ہے ۔۔ لیکن یہ کیسی جمہوریت ہے جہاں اظہار رائے کی آزادی تک نہیں؟؟مودی سرکار کے دور میں دونوں ملکوں کے سرکاری سطح پر تعلقات تو خراب ہوئے ہی ہیں،، لیکن اب عوام کی سطح پر بھی تلخیاں بڑھتی جا رہی ہیں،، ایسے حالات میں بہتری کی امید کیسے کی جا سکتی ہے؟؟؟ 

Most Popular