آدھے سے زیادہ بچے اپنے والد کے ساتھ کھیلنے اور ابتدائی تعلیمی سرگرمیوں سے محروم ہو چکے ہیں۔

آدھے سے زیادہ بچے اپنے والد کے ساتھ کھیلنے اور ابتدائی تعلیمی سرگرمیوں سے محروم ہو چکے ہیں۔

74 ممالک میں 55 فیصد بچے جن کی عمر تین سے چار سال ہے اپنے والدکے ساتھ ابتدائی تعلیمی سرگرمیوں اور کھیلنے میں حصہ نہیں لیتے۔ یونیسف کے ڈائریکٹر برائے ڈیٹا ریسرچ اینڈ اسٹڈی لارنس چنڈی نے اپنی رپورٹ میںکہا ہے کہ بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں کے ابتدائی سالوں میں ان کے باپ بہت زیادہ جدوجہد کرتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ہمیں وہ سب رکاوٹیں دور کر دینی چاہیے جو ہر باپ کو اور بچے کو وہ ماحول دینے سے روکتی ہے جس میں وہ باپ نے بچے کو ایک سازگار ماحول فراہم نہیں کر پاتا اور ان کو وہ ماحول فراہم کرے جس میں غذائیت سے بھر پور تحفظ، کھیل اور پیار شامل ہے ، سب والدین کے پاس وقت،علم اور وسائل موجود ہونے چاہئیں جس میں وہ اپنے بچے کی تعلیم میں بھر پور طریقے سے ساتھ دے سکیں۔رپورٹ کی تیاری کامقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ بچے جن کی عمر تین سے چار تھی اپنے والدین کے ساتھ کھیل اور ابتدائی تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف تھے یا نہیں ان سرگرمیوں میں والدین سے یہ کہا گیا کہ وہ اپنے بچوں کو مختلف کہانیاں سنائیں یا ان کے لیے کچھ گائیں یاان کو باہر لے کر جائیں ان کیساتھ کھلیں اور ان کے ساتھ ڈرائنگ کریں ادارے کے پاس والدین کے رویے کا ہر موازنہ معلومات ایک سب سے بڑے مجموعے کے طور پر محفوظ کیا گیا۔ اس ماہ یونیسف نے کچھ خاندانوں کو دعوت دی جس میں انہوں نے ان سے کچھ تصاویر اور ویڈیوز بنانے کو کہا یہ پروگرام والدین کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے تھا تاکہ زیادہ والدین اپنے بچوں کی ایک غذائیت سے بھر پور نشوونما کر سکیں اور تحفظ، کھیل اور پیار پر روشنی ڈالی گئی۔ یونیسف نے نجی اداروں اور حکومت پر زور دیا کہ وہ ایسی پالیسیوں کو فروغ دیں جو بچوں ابتدائی نشوونما کے پروگرام میں مددگار ہوں جو والدین کو معلومات اور وسائل فراہم کرے جو کہ وہ اپنے بچوں کی نشوونما بہتر طریقے سے کر سکیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جب ایک بچہ اپنے ابتدائی سال ایک متحرک ماحول میں نشوونما پاتا ہے تو یہ تعلقات اس کی صحت، سیکھنے کی صلاحیت اورپریشانی سے نمٹنے میں حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور جب بچہ اپنے والدین سے مثبت انداز سے ملتا ہے تو اس کی نفسیاتی صحت، خود اعتماد اور زندگی کا سکون زیادہ بہتر ہو جاتا ہے۔

Most Popular