کون سچا کون جھوٹا۔ شام کا اسرائیلی بمبار طیارہ مار گرانے اور اسرائیل کا شامی میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ

کون سچا کون جھوٹا۔ شام کا اسرائیلی بمبار طیارہ مار گرانے اور اسرائیل کا شامی میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ

شام نے اسرائیل کا بمبار طیارہ مار گرانے جبکہ اسرائیل نے شامی میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے ،دونوں حکومتوں نے ایک دوسرے کے دعوو¿ں کو مسترد کیا ہے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق شامی حکومت نے دعوی کیا ہے کہ شام کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایک اسرائیلی بمبارطیارہ تباہ کردیا ہے۔شامی فوج کی طرف سے جاری کردہ بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ گزشتہ رو ز اسرائیل کے ایک بمباری طیارے کو مار گرایا ہے جب کہ دوسرے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔شامی فوج کے مطابق رات 2 بج کر 40 منٹ پر اسرائیل کے چار جنگی جہاز شام کی فضائیی حدود میں داخل ہوئے۔ اسرائیلی طیاروں نے شمالی شام کے حمص شہر میں بم باری کی تاہم بمباری کے فوری بعد طیارے واپس مڑگئے۔ اس دوران طیارہ شکن میزائلوں سے انہیں نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں اسرائیل کا ایک بمبار طیارہ مار گرایا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی حکومت نے شامی حکومت کے دعوے کی تردید کی ہے۔ادھر امریکی اسکائی نیوز کے مطابق اسرائیلی فوج کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب اسرائیلی جنگی طیاروں نے شام میں متعدد اہداف پر بمباری کی تھی تاہم کسی طیارے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور بمباری طیارے بہ حفاظت واپس آگئے ہیں۔دریں اثناءاسرائیل نے جدید ترین نظام سے شامی میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے جسے شام نے مسترد کیا ہے ۔اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے اپنے جدید ترین میزائل شکن نظام کے ذریعے پہلی مرتبہ ایک شامی میزائل مار گرایا ہے۔ایرو سسٹم نامی اس میزائل شکن نظام کو طویل رینج کے بلیسٹک میزائل روکنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس نظام نے زمین سے فضا میں نشانے مارک کرنے والے ایک شامی میزائل کو مار گرایا ہے۔اس کے علاوہ ایک غیر معمول اعتراف کرتے ہوئے اسرائیل نے بتایا کہ انھوں نے شام میں کچھ جگہوں کو نشانہ بنایا ہے۔اطلاعات کے مطابق مار گرایا جانے والا میزائل اردن میں گرا ہے جبکہ دیگر دو میزائل اسرائیلی حدود میں گرے ہیں۔ان واقعات میں کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔2011 میں شامی خانہ جنگی کے آغاز سے شام اور اسرائیل کے درمیان وقتا فوقتا سرحد پار فائرنگ یا راکٹوں کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے۔خیال کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں میں لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو بھیجی جا رہی ہتھیاروں کی کھیپ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔شام کی لڑائی کے دوران غلط مارک کیے جانے والے کچھ شیل شام کی گولان پہاڑیوں پر بھی گرے۔ شام کی گولان پہاڑیوں پر اسرائیل نے قبضہ کر رکھا ہے۔ماضی میں شام نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے اسرائیلی لڑاکا طیاروں کو نشانہ بنایا ہے تاہم ابھی تک کسی طیارے کے گرنے کی اطلاعات نہیں ہیں۔دوسری جانب شام نے اسرائیلی دعوے کی تردید کی ہے ۔

Most Popular