مقبوضہ کشمیر: قابض افواج کشمیریوں کی نسل کشی کر رہی ہیں۔ سردار محمد مسعود خان

مقبوضہ کشمیر: قابض افواج کشمیریوں کی نسل کشی کر رہی ہیں۔ سردار محمد مسعود خان

صدر آزاد جموں وکشمیر سردار محمد مسعود خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال تشویشناک ہے، قابض افواج کشمیریوں کی نسل کشی کر رہی ہیں، اہل کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان محاذ آرائی کی وجہ بننے کی بجائے خطے میں دوستی امن اور ہم آہنگی کی علامت بننا چاہتے ہیں،پا کستان علاقائی اور عالمی سطح پر ایک اہم ملک کی حیثیت سے نئے عالمی نظام میں موثر کردار اد کرے گا، سی پیک کی بدولت ہم جنوبی ایشیائ، وسطی ایشیاء ، مشرق بعید ، مشرق وسطیٰ اور افریقہ و یورپ کے درمیان رابطے کا مرکز ہونگے،صدر آزاد جموں وکشمیر سردار محمد مسعود خان نے گزشتہ روز پشاور میں مصروف دن گزارا۔ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے طلباء اور فیکلٹی کو بدلتے عالمی حالات ، سی پیک اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے لیکچر دیا۔ پشاور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اور خیبر پختونخوا چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے ارکان سے خطاب کیااور پشاور پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو اورصحافیوںکے سوالوں کے جواب دئیے۔ پشاور یونیورسٹی میں لیکچر دیتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ عالمی سطح پر قابل ذکر تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں ۔ پاکستان علاقائی اور عالمی سطح پر ایک اہم ملک کی حیثیت سے نئے عالمی نظام میں موثر کردار اد کرے گا۔ سی پیک کی بدولت ہم جنوبی ایشیائ، وسطی ایشیاء ، مشرق بعید ، مشرق وسطیٰ اور افریقہ و یورپ کے درمیان رابطے کا مرکز ہونگے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہر حوالے سے کامیاب رہی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے پاکستان کو عالمی برادری میں تنہا کرنے کی دھمکیوں کے باوجود پاکستان نے اسلام آباد میں اقتصادی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس منعقد کیا۔ امریکا روس اور برطانیہ جیسی بڑی طاقتوں کے ساتھ تعلقات بڑھائے ۔ مسلم ممالک کے ساتھ پہلے سے ہی دوستانہ تعلقات ہیں۔ روس اور برطانیہ بھی سی پیک کا حصہ بننا چاہتے ہیں ۔ مشرق وسطیٰ افریقہ اور دیگر خطوں کے ساتھ دوستانہ اور تجارتی تعلقات فروغ پا رہے ہیں ۔ ہمیں اگر مشکلات ہیں تو داخلی محاذ پر ہیں۔ دہشتگردی اور انتہا پسندی ہماری ترقی میں رکاوٹ ہیں۔ صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور فاٹا کے ساتھ ہمارا گہرا مذہبی ، نسلی اور جغرافیائی تعلق ہے۔ 1947-48ء میں کشمیر کی آزادی کی جنگ میں خیبر پختونخوا اور فاٹا کے لوگوں نے جہاد میں حصہ لیکر اپنے کشمیری بھائیوں کی عملی مددکی اور جانوں کی قربانیاں دیں۔ نشان حیدر کیپٹن کرنل شیر خان شہید کا نام اس کے دادا نے اس وقت کے کشمیری کمانڈر کے نام پر رکھا تھا۔ صدر آزاد نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال تشویشناک ہے۔ یونیورسٹی کے طلباء سوشل میڈیا پر اپنے کشمیری بھائیوں کے حق میں آواز بلند کریں۔ قابض افواج کشمیریوں کی نسل کشی کر رہی ہیں۔ اور وہاں انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر پشاور یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عابد یونیورسٹی آف پونچھ راولاکوٹ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رسول جان اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر فیکلٹی ممبران بھی موجود تھے ۔ بعد ازاں صدر آزاد کشمیر نے پشاور ہائیکورٹ بار کے ارکان سے خطاب کیا۔ صدر آزاد کشمیر نے میزبانی اور مہمان نوازی پر خیبر پختونخوا حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔ انہو ں نے کہا کہ اس صوبے سے ہزاروں لوگ صدیوں پہلے نقل مکانی کر کے کشمیر میں آباد ہوئے ۔ اور 1947-48کے بعد کشمیری مہاجرین کی بڑی تعداد اس صوبے میں آباد ہیں۔ ہمارے ہزاروں طلباء نے یہاں سے تعلیم حاصل کی اب ہماری یونیورسٹیوں اور میڈیکل کالجز میں اس صوبے کے نوجوان پڑھ رہے ہیں۔ اس لیے ہم امید کرتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کے وکلاء سیاسی رہنما صحافی اور معاشرے کے دیگر طبقات کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت اور بھارتی مظالم کی مذمت کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے۔ انشا ء اللہ ہم سب اجتماعی طور پر کامیاب ہونگے ۔ سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کے لیے قانون کی حکمرانی اور میرٹ کی بالا دستی ضروری ہے۔ معاشرے سے انتہاء پسندی اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ہمیں علم و حکمت سے کام لینا ہو گا۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ اہل کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان محاذ آرائی کی وجہ نہیں بننا چاہتے ۔ ہم خطے میں دوستی امن اور ہم آہنگی کی علامت بننا چاہتے ہیں ۔ بھارت مسئلہ کشمیر کو پر امن انداز میں مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر آمادہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے اقوام متحدہ نے سوچ و بچار کے بعد اس کا ایک پائیدار حل تجویز کیا تھا۔ بھارتی حکمرانوں نے سلامتی کونسل کے پلیٹ فارم پر اس حل کو تسلیم کیا لیکن عالمی ادارے کی قرار دادوں پر عملدرآمد کرنے سے انکاری ہے۔ عالمی برادری دوہرے معیار کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ اس لیے ہمیں اہل پاکستان کی بھر پور حمایت کی ضرورت ہے۔ ہم ہمت نہیں ہارے ۔ ہماری جدوجہد کامیاب ہو گی ۔ صدر آزاد کشمیر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ دہشتگردی اور انتہا پسندی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسلام رواداری امن اور ہم آہنگی کا درس دیتا ہے۔ یہاں فرقہ واریت باہر سے درآمد ہو رہی ہے۔ انتہا پسندی اور دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد اور اتفاق پیدا کرنا ہو گا۔ بعد ازاں صدر آزاد کشمیر نے خیبر پختونخوا چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کا دورہ کیااور صوبے کے بڑے تاجروں ، سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے انہیں آزاد کشمیر میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ آزاد کشمیر سی پیک کا حصہ بن چکا ہے۔ آئندہ چند برسوں کے دوران کشمیر میں تعمیر و ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔ آزاد کشمیر حکومت نے اس سلسلے میں جامع منصوبہ بندی کر لی ہے۔ ہائیڈرو پاور کے بڑے منصوبے سی پیک کا حصہ بن گئے ہیں۔ جبکہ مانسہرہ سے مظفرآباد اور میر پور موٹروے بننے سے ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔ سیر و سیاحت کی رہداری بنے گی ۔ جس کے ذریعے آزاد کشمیر کے تمام سیاحتی مقامات اور خوبصورت چوٹیوں کو باہم ملا دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مواصلات کا نظام بہتر ہونے اور وافر مقدار میں توانائی کی پیداوار کے بعد آزاد کشمیر صنعتکاری کے لیے موزوں علاقہ قرارپائے گا۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کے تاجروں اور سرمایہ کاروں کو دعوت دی کہ وہ آزاد کشمیر میں آکر خود امکانات کا جائزہ لیں۔دوران تقریب تمام تاجروں اور چیمبر کے عہدیداروں نے کھڑے ہو کر کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ اور بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والوں کے درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ خوانی کی۔

Most Popular