چین میں غریب آبادی کی تعداد8 کروڑ 20 لاکھ سے کم ہوکر4کروڑ رہ گئی۔

چین میں غریب آبادی کی تعداد8 کروڑ 20 لاکھ سے کم ہوکر4کروڑ رہ گئی۔

ا قوام متحدہ نے کہا ہے کہ چین نے ہز ار سالہ اہداف پورے کرنے میں نمایاں کامیابیاں حاصلکیں ،چین کے حاصل کردہ تجربات تمام ملکوں کے لئے بڑی اہمیت رکھتے ہیں،چین میں غریب آبادی کی تعداد آٹھ کروڑ بیس لاکھ سے کم ہو کر چار کروڑ رہ گئی ہے۔ چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل کے مطابق ۔قوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی سابق سربراہ ہیلن کلاک نے یہ خیال ظاہر کیا کہ ہزار سالہ اہداف کو پورا کرنے میں چین نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔اس بارے میں چین کے حاصل کردہ تجربات تمام ملکوں کے لئے بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔غربت دنیا کی ترقی کے عمل میں حائل ایک اہم مسئلہ ہے۔عالمی بینک کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت دنیا میں کل ستر کروڑ غریب آبادی موجود ہے۔دنیا میں سب سے بڑے ترقی پزیر ملک کی حیثیت سے گزشتہ پانچ برسوں میں چین میں غریب آبادی کی تعداد آٹھ کروڑ بیس لاکھ سے کم ہو کر چار کروڑ رہ گئی ہے۔چین حکومت کاہدف یہ ہے کہ دوہزاربیس تک چین میں غربت کا مکمل خاتمہ کیا جائیگا۔اس ہدف کی تکمیل کے لئے چینی حکومت نے غریبوںکو ٹھوس امداد فراہم کرنے کی حکمت عملی پیش کی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ اس وقت چین میں چار کروڑ غریب آبادی ملک کے کل ایک لاکھ اٹھائیس ہزار دیہات میںرہتی ہے۔غربت سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے سلسلے میں ان کے سامنے درپیش سب سے بڑا مسئلہ کٹھن قدرتی ماحول ہے۔چین کے مختلف علاقوں کی حکومتوں نے ان لوگوںکوامداددینے کے لئیے موئثر طریقہ کار تلاش کرنے میںبڑی محنت کی ہے۔غریب لوگوںکو مویشی بانی، دستکاریوں سمیت ہنرسیکھانا،دورافتادہ علاقوںسے ان لوگوںکومنتقل کرنا، روزگار کے حصول کےلئے ان کو سہارا دینا، قدرتی اور حیاتیاتی ماحول کوبہتربنانا ان طریقوں میںشامل ہیں

Most Popular