بھارتی حکومت اور میڈیا بے بنیاد پروپیگنڈے کے ذریعے تحریک آزادی کو ہرگز کمزور نہیں کر سکتے۔ یاسین ملک

بھارتی حکومت اور میڈیا بے بنیاد پروپیگنڈے کے ذریعے تحریک آزادی کو ہرگز کمزور نہیں کر سکتے۔ یاسین ملک

مقبوضہ کشمیر میں جموںو کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت اور میڈیا اپنے جھوٹے ، بے بنیاد اور لغوپروپیگنڈے کے ذریعے نوجوانوں کے گرم گرم لہو سے سینچی ہوئی تحریک آزادی کشمیر کو ہرگز کمزور نہیں کر سکتے ۔ انہوںنے کہا کہ بھارتی حکمران اور یہاں کا جانب دار میڈیا ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ کشمیر میں سب کچھ پیسوں کے عوض ہو رہا ہے لیکن ہم انہیں باور کرانا چاہتے ہیں کہ کشمیری ان کے لغو پروپیگنڈے سے کسی صورت مرعوب نہیں ہوں گے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق محمد یاسین ملک نے سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت اور میڈیا پروپیگنڈا کررہے ہیں کہ کشمیر میں شہید ہونے والا 5سوروپے کیلئے جان دے رہا ہے‘ آنکھوں کی بینائی دینے والا بھی 5سوروپے کیلئے اندھا ہورہا ہے ،یہاں کے معصوم طلبہ بھی پیسے ہی کی خاطر احتجاج کررہے ہیں جبکہ حریت رہنما بھی روپے پیسے ہی کیلئے سرگرم ہیں تو بھارت یہ رقم دوگنی کر کے انہیں اپنے طرف کیوں نہیں موڈ لیتا ،انہیں خود کو بھارتی مظالم کی چکی میں پسوانے کی کیا ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک آزادی میں متوسط گھرانوں کے ساتھ ساتھ امیر گھروں کے تعلیم یافتہ نوجوان بھی قربانیاں نہ دے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت تو ویسے بھی اربوں روپے جموںوکشمیر میں ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کر رہا ہے تاکہ کشمیریوں کو لبھایا جاسکے لیکن کشمیری صرف اور صرف بھارت کے غیر قانونی قبضے سے آزادی لیے اپنی جانیں دے رہے ہیں ۔ محمد یاسین ملک نے کہا کہ بھارتی حکمرانوں اور میڈیا کو یہ بات جان لینی چاہئے کہ جب ان کے لاکھوں فوجی قتل غارت اور ظلم و جبر کی انتہا کے باوجود کشمیریوں کے جذبہ آزادی ختم نہیں کر سکے تو بے بنیاد پروپیگنڈا بھی انکے کسی کام نہیں آئے گا۔ محمد یاسین ملک نے کہا کہ وہ آج بھی اپنی والدہ کے دو کمروں پر محیط کچے مکان میں رہائش پذیر ہیں اور اگر بھارتی حکمران اور میڈیا انکے حوالے سے ذرہ برابر کرپشن ثابت کردیں ، تو وہ سیاست سے دستبرداری کا اعلان کریں گے۔ چیئرمین لبریشن فرنٹ نے بھارتی جریدے انڈیا ٹوڈے کی رپورٹر کمل جیت ساندھوکے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ صبح سویرے اپنے دو کیمرہ مینوں کے ہمراہ انکے گھر میں آدھمکی اور براہ راست مکان کی تیسری منزل پر موجود ا±ن کے کمرے میں پہنچ گئی اور کمرے کے دروازے پر ہی سوالات شروع کردیے جبکہ اس نے انٹریو کے لیے پیشگی وقت بھی نہیں لیا تھا ۔ محمد یاسین ملک نے کہا خاتون رپورٹر زبردستی انکا انٹریو لینے کے لیے ا±تاولی نظر آرہی تھیںجس کے بعد انہوں نے ان سے موبائل بند کرنے اور گھر سے باہر نکل جانے کیلئے کہا۔ محمد یاسین ملک نے کہا کہ زبردستی گھر میں گھس جانے اور ساری صحافتی اقدار کی دھجیاں بکھیرنے کے اس واقعے کے خلاف انہوں نے پولیس اسٹیشن مائسمہ میں شکایت بھی درج کروا دی ہے۔ یاسین ملک نے کہا کہ بھارتی میڈیا کشمیردشمنی میں اپنی ساری حدیں پھلانگ چکا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ تحریک آزادی کشمیری کو بدنام کے لیے یہ بھارتی فوج سے ہدایات لیتا ہے ۔

Most Popular