انڈونیشیا کا سزائے موت کے قانون پرعمل درآمد روکنے پرغور

انڈونیشیا کا سزائے موت کے قانون پرعمل درآمد روکنے پرغور

انڈونیشیا نے بین الاقوامی برادری کی تنقید اور عوام کا اعتماد بحال کرنے کےلئے سزائے موت کے قانون پرعمل درآمد روکنے پرغور شروع کر دیا ہے غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ پھانسی کی سزاوں پرعمل درآمد روکنے کے لئے تیاری کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ صدرویدودو نے 2014 میں اقتدار سنھبالتے ہی منشیات کے مکروہ دھندے کے خلاف اعلان جنگ کیا تھا۔ انہوں نے منشیات کے جرم میں سزائے موت پانے والے قیدیوں کی معافی کی تمام درخواستیں مسترد کردی تھیں۔ گذشتہ چار سال سے انڈویشیا کے حکام منشیات کے مجرموں کو سنائی گئی سزائے موت کی سزاوں پرعمل درآمد کرتے رہے ہیں۔ تاہم حالیہ چند ماہ کے دوران سزائے موت پرعمل درآمد کے واقعات میں کمی دیکھی گئی ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے سے با ت کرتے ہوئے صدر ویدودو نے ملک میں پھانسی کے قانون میں ترمیم کا عندیہ دیا۔ صدر نے کہا کہ اگر عوام سزائے موت روکنے پر راضی ہوں تو وہ دی گئی موت کی سزاو¿ں پرعمل درآمد روکنے کے لیے اقدامات کریں گے صدر جوکو ویدودو کے اقتدار سنھبالنے کے بعد 15 غیر ملکیوں سمیت 18 افراد کو منشیات کے دھندے میں ملوث ہونے کے جرم میں پھانسی دی گئی۔

Most Popular