بھارت میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کے خلاف سرکاری ایوارڈز واپس کرنے کا سلسلہ ایک تحریک کی شکل اختیار کر گیا

بھارت میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کے خلاف سرکاری ایوارڈز واپس کرنے کا سلسلہ ایک تحریک کی شکل اختیار کر گیا

بھارت میں انتہا پسند شیو سینا کے غنڈوں کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں اور اقلیتوں کے خلاف حکومتی پالیسیوں کے خلاف اس وقت ملک بھر کے ادیب، شاعر، فلمساز اور سائنسدان سراپااحتجاج بنے ہوئے ہیں اور اب ان میں معروف تاریخ دان بھی شامل ہوچکے ہیں جن میں رومیلا تھاپر، عرفان حبیب، اوپندر سنگھ، ایم جی ایس نارائن جیسے بڑے نام بھی شامل ہیں۔ اپنے تحریری بیان میں ان تاریخ دانوں نے کہا ہے کہ ملک میں عدم برداشت بڑھ رہی ہے۔حکومت کو چاہیےکہ تمام افراد کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا اختلافات کو بات چیت سے طے کیا جانا چاہیےنہ کہ گولی  کا استعمال کیا جائے۔ گائے کا گوشت رکھنے کے شبے میں کسی کی جان لے لینا قابل افسوس ہے اور اس کی مذمت کرتے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا ملک میں آزادی اظہار پر قدغن لگائی جارہی ہے۔ بھارت میں آزادی اظہار خوبصورتی تھی مگر اب حالات خراب ہورہے ہیں۔ اس سے قبل دو سو سے زائد بھارتی سائنسدان، دانشور، ادیب اور فلم میکر احتجاجا اپنے ایوارڈ واپس کر چکے ہیں۔

Most Popular