سپریم کورٹ اڈیالہ جیل سے اٹھائے گئے قیدیوں سے متعلق مقدمہ، ایسا قانون بتائیں جس سے فاٹا اور پاٹا کے علاقوں میں عدالتی اختیار استعمال کرسکیں۔ چیف جسٹس

سپریم کورٹ اڈیالہ جیل سے اٹھائے گئے قیدیوں سے متعلق مقدمہ، ایسا قانون بتائیں جس سے فاٹا اور پاٹا کے علاقوں میں عدالتی اختیار استعمال کرسکیں۔ چیف جسٹس

سپریم کورٹ میں اڈیالہ جیل سے اٹھائے گئے قیدیوں سے متعلق مقدمے کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ سماعت کے دوران قیدیوں کےوکیل طارق اسد نے زیرحراست قیدیوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کیا اور عدالت کو بتایا کہ نو ماہ تک غیرقانونی تحویل میں رکھنے کے بعد تمام قیدیوں کو ٹرائل کے بغیر حراستی مراکز بھجوادیاگیا ہے، لہٰذا عدالت ان کی فوری رہائی کا حکمنامہ جاری کرے۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ فاٹا اور پاٹا میں عدالتی اختیار استعمال نہیں کرسکتے۔ کوئی حکم دیا گیا تو کہا جاسکتا ہے کہ سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار نہیں تھا۔ عدالت کو ایسا قانون بتائیں جس کے تحت سپریم کورٹ وہاں متاثر ہونے والے بنیادی حقوق پر حکمنامہ جاری کرسکے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے مقدمہ کی سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا، جبکہ چیف سیکرٹری اور ہوم سیکرٹری کے پی کے کو عبدالباسط اور عبدالماجد کے علاج کی رپورٹ بھی آئندہ سماعت پر پیش کرنے کی ہدایت کی۔

About the author /

Waqt News

Waqt News Web Team

Most Popular