چمن بارڈر پر اشتعال انگیزی کا واقعہ کابل اور دلی کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے، جوابی فائرنگ میں پچاس افغان فوجی مارے گئے، سو سے زائد زخمی ہوئے,آئی جی ایف سی میجر جنرل ندیم احمد

چمن بارڈر پر اشتعال انگیزی کا واقعہ کابل اور دلی کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے، جوابی فائرنگ میں پچاس افغان فوجی مارے گئے، سو سے زائد زخمی ہوئے,آئی جی ایف سی میجر جنرل ندیم احمد

چمن میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے آئی جی ایف سی میجر جنرل ندیم احمد کا کہنا تھا کہ مردم شماری سےپہلےافغان حکام کوآگاہ کردیا تھا، 5 مئی کو 2 بجکر20 منٹ پر افغان حکومت نے پاکستانی حکومت سے فائربندی کی درخواست کی جس کو ہم نے قبول کیا۔ ہماری مثبت سوچ کا ناجائزہ فائدہ اٹھایا گیا، افغان فورسز نے پاکستانی علاقے میں گھروں میں گھس کر گھروں پر قبضہ کئے،لوگوں کوانسانی ڈال کےطورپراستعمال کیا، پاک فوج اور ایف سی کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں افغان فورسزکابھاری جانی نقصان ہوا، پچاس سے زائد افغان فورس کے لوگ مارے گئے،،، جبکہ سو سے زائد زخمی ہوئے، ہم نے افغان فورسزکی پانچ چیک پوسٹیں تباہ کردیں، افغان جارحیت میں ہمارے دو جوان شہید اور نو زخمی ہوئے، آئی جی ایف سی کا کہنا تھا کہ سیاسی قیادت نےواضح بیان دیا ہے کہ دلی اورکابل میں گٹھ جوڑ ہے، افغانستان میں بھارت کےلوگ موجود ہیں جو منفی مشورہ دیتے ہیں،،،، ہم اپنی سرحدوں کا دفاع کرنا جانتے ہیں، افغانستان کی جانب سے دوبارہ ایسی حرکت ہوئی تو اس سے بھی بھاری اور تکلیف دہ نقصان پہنچائیں گے، کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ سرحد پار کر کے ہمارے علاقے میں آئیں،،، آئی جی ایف سی کا کہنا تھا کہ افغانستان کا بھاری نقصان کرکے کوئی خوشی نہیں ہوئی، وہ ہمارے بھائی اور مسلمان ہمسائے ہیں، جنگ پاکستان اورافغانستان کے مفاد میں نہیں، ان کا کہنا تھا کہ چمن میں ٹریفک معمول کےمطابق جاری ہے، سول انتظامیہ اور پی ڈی ایم اے نے اچھے انتظامات ہوئے ہیں،ہم چاہتے تو زیادہ فورسز سے علاقے کو بہت جلد خالی کرا سکتے تھے۔میجر جنرل ندیم نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ جب تک افغان فورسز کا رویہ درست نہیں ہوگا باب دوستی بند رہے گا

Most Popular