کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن پر ملک و قوم کو ہمیشہ فخر ہوتا ہے۔ حکیم محمد سعید بھی انہی میں سے ایک تھے

کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن پر ملک و قوم کو ہمیشہ فخر ہوتا ہے۔ حکیم محمد سعید بھی انہی میں سے ایک تھے

بین الاقوامی شہرت یافتہ معالج، سماجی کارکن، سابق گورنر سندھ اور مصنف حکیم محمد سعید نے نو جنوری انیس سو بیس کو دہلی میں آنکھ کھولی۔ دو برس کی عمر میں والد کا سایہ سر سے اُٹھ گیا۔ تقسیم ہند کے بعد انہوں نے تمام کاروبار، عیش و آرام اور دولت چھوڑ کر پاکستان کا رخ کیا اور نو جنوری انیس سو اڑتالیس کو کراچی آ گئے۔ اپنے ساتھ لائے مشروبات کی بوتلیں سڑکوں پر بیچ کر اپنے کاروبار کا آغاز کیا۔ ناظم آباد میں المجید سنٹر کی بنیاد ڈالی جس سے ہمدرد فاؤنڈیشن کی راہ ہموار ہوئی۔ محترمہ فاطمہ جناح نے چودہ اگست انیس سو اٹھاون میں ہمدرد کے طبی کالج کا افتتاح کیا۔گورنر سندھ بننے کے بعد بھی حکیم سعید اپنے مریضوں کو باقاعدہ دیکھتے اور ان کا مفت علاج کرتے رہے۔ جنرل ضیاالحق کے دور میں وہ وزیر بننے کے بعد بھی کراچی، لاہور، سکھر اور پشاور میں مطب کرتے رہے۔ انہوں نے سرکاری گاڑی لی اور نہ رہائش ۔۔ یہاں تک کہ ٹی اے ڈی اے بھی قومی خزانے میں جمع کرا دیتے تھے۔حکیم سعید کو بچوں سے بہت محبت تھی، انہوں نے رسالہ ہمدرد نونہال جاری کیا اور بزمِ ہمدرد نونہال، ہمدرد شوریٰ، شامِ ہمدرد اور ہمدرد نونہال اسمبلی جیسے ماہانہ پروگراموں کے ذریعے نئی نسل کی تربیت کی۔ انہوں نے بچوں کیلئے بہت سے کتب بھی شائع کرائیں۔ مایہ ناز طبیب اور سماجی کارکن کو 2002ء میں نشان امتیاز سے نوازا گیا۔ سترہ اکتوبر 1998کی ایک صبح نامعلوم دہشتگردوں نے انہیں شہید کر دیا۔

Most Popular