امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک کو کو سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ جیسے اقدامات مسترد کرنے کی بجائے انکا خیرمقدم کرنا چاہیے:وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف

امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک کو کو سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ جیسے اقدامات مسترد کرنے کی بجائے انکا خیرمقدم کرنا چاہیے:وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک کو کو سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ جیسے اقدامات مسترد کرنے کی بجائے ان کا خیرمقدم کرنا چاہیے۔مشترکہ خوشحالی کے اس منصوبے کے ذریعے 800ملین افراد کی غربت مٹائی جا سکتی ہے۔ایک بیان میں وزیراعلی محمد شہبا شریف نے کہا کہ بیمار ذہنیت کے حامل اس منصوبے کے بارے میں غیر یقینی صورتحال پیدا کرنے کے مشن پر گامزن ہےں۔اس کے ذریعے وہ عالمی امن اور ترقی میں معاونت نہیں کررہے۔پورے جنوبی ایشیاکوغربت،عدم مساوات اور عدم ترقی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ون بیلٹ ون روڈاور سی پیک خوشحالی کے مشترکہ ثمرات لئے انہی چیلنجز کا حل پیش کرتے ہیں اور ایسا منصوبہ جس کا مقصد عوام کو بااختیار اور خوشحال بنانا ہے۔اس کے بارے میں شکوک وشہبات پیدا کرنے سے پرہیز لازم ہے۔وزیراعلی شہباز شریف نے ون بیلٹ ون روڈ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے یاد دلایا کہ چین کے صدرحالیہ ون بیلٹ ون روڈ سمٹ میں یقین دہانی کروا چکے ہیں کہ اس منصوبے کا مقصد کوئی جیو پولیٹیکل ایجنڈا نہیںبلکہ باہمی ہم آہنگی اور ربط باہم ہے۔انہوں نے کہا کہ ون بیلٹ ون روڈجیسے منصوبے پر علیحدگی یا مخصوص ایجنڈے کا لیبل چسپاں کرنا بہت بڑی ناانصافی ہے اور عالمی طاقت کو اس کے راستے میں حائل علاقائی تنازعات کو حل کرکے اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے امریکی وزیردفاع کے ون بیلٹ ون روڈ کے بارے میں تحفظات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چین کے اس انتہائی قابل تحسین اقدام کا مقصدعلم،وسائل اور خوشحالی کو ایشیا ،یورپ اور افریقہ کے 65ممالک میںبانٹنا ہے۔وزیراعلی محمد شہباز شریف نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کی لانچنگ سے اب تک چین اور دوسرے ممالک کے درمیان 2014سے 2016تک تجارت کا حجم3کھرب ڈالر تک بڑھ چکا ہے اور ون بیلٹ ون روڈ ممالک میں چینی سرمایہ کاری کا حجم 50ارب ڈالر سے بھی بڑھ چکا ہے اورون بیلٹ ون روڈمنصوبے کے تحت چین کی مجموعی سرمایہ کاری ایک کھرب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور پراجیکٹ کا حجم 60ارب ڈالر سے بڑھ چکا ہے۔ پاکستان میں پہلے ہی اسی منصوبے کے تحت 2000ہزار میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کی جا چکی ہے اور ماڈرن ماس ٹرانزٹ ٹرین سسٹم جسے اورنج لائن کہا جاتا ہے سمیت 19پراجیکٹ تیزی سے تکمیل کے مراحل طے کررہے ہیں۔وزیراعلی نے مزید کہا کہ ون بیلٹ ون روڈ اب ایک عالمی سچائی 100سے زائد ممالک اور عالمی تنظیموں کے درمیان مشترکہ تعاون سے زیر تکمیل ہے۔جنہوں نے اس سال اوبر سمٹ میں شمولیت بھی کی اور اس میں امریکہ بھی شامل تھا۔شہباز شریف نے کہا کہ ون بیلٹ ون روڈ سے متعلق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سکیورٹی کونسل کی پاس کردہ قراردادیں اہمیت کی حامل ہیں اور اسی طرح ون بیلٹ ون روڈ سمٹ میں چینی صدر نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ یہ منصوبہ تمام ممالک کےلئے اوپن ہےں اور انہوں نے ایشیا،یورپ اور امریکہ سمیت تمام ممالک کو اس میں شمولیت کی دعوت دی کیونکہ تمام ممالک کی سربلندی کےلئے شروع کئے گئے اس منصوبے کو ہدف تنقید بنانے یا مسترد کرنے کی بجائے سراہنا چاہیے ۔وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے عوام اور تمام قومی مکاتب فکر کے لوگ کاپاکستان کی معیشت اور سیاسی نظام کے لئے سی پیک کے گیم چینجر ہونے پر بھرپور اتفاق ہے اور پوری قوم اتحاد کی طاقت کےساتھ منصوبے کی افادیت کے پیش نظرتمام تر سازشوں کو زائل کرنے کےلئے یکسو ہے۔

Most Popular