جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نوے کی دہائی میں مریم صفدر کے اثاثوں میں غیرمعمولی اضافہ دیکھا گیا

جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نوے کی دہائی میں مریم صفدر کے اثاثوں میں غیرمعمولی اضافہ دیکھا گیا

جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ میں جمع کرائی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ نوے کی دہائی کے آغاز میں وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزادی مریم صفدر کے اثاثوں میں غیرمعمولی اضافہ دیکھا گیا جس کے کوئی ذرائع آمدن نہیں بتائے گئے۔ مریم صفدر کی آمدنی کی تفصیلات اور ایف بی آر کے ریکارڈ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ انہوں نے اپنے اثاثے چھپائے اور ٹیکس چوری کی۔ جے آئی ٹی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مریم صفدر نے اپنی زیرملکیت ایک بی ایم ڈبلیو کار ظاہر کی،جس کے متعلق انہوں نے دعوی کیا کہ یہ انہیں متحدہ عرب امارات کے شاہی خاندان نے بطور تحفہ دی۔ مریم صفدر نے بی ایم ڈبلیو کار کیلیے پینتیس لاکھ کسٹم ڈیوٹی ادا کی لیکن اس کے ذرائع آمدن نہیں بتائے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسی کار کو انہوں نے اپنے اثاثوں میں بھی ظاہر کیا جس کی قابل فروخت قیمت دوکروڑ اسی لاکھ بتائی جس سے ان کے اثاثوں کے حجم میں اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مریم صفدر نے اپنے اثاثوں میں ایک اور جگہ اسی کار کی قیمت ساٹھ لاکھ بتائی۔ یہ کار دو ہزار سولہ تک ان کی زیرملکیت رہی جو اثاثوں کو چھپانے اور ٹیکس چوری کے مترادف ہے۔ جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مریم صفدر کے بیانات اور ان کے اثاثوں میں تضاد پایا گیا ہے۔ انہوں نے اپنے اثاثوں کے کوئی ذرائع آمدن نہیں بتائے۔ مریم صفدر نے اپنے ذرائع آمدن سے لاکھوں روپے قرضہ بھی لیا۔

Most Popular