ساڑھے تین سال سے سازشیں جاری تھیں، بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کا بہانہ بنایا گیا، سابق وزیراعظم نوازشریف

 ساڑھے تین سال سے سازشیں جاری تھیں، بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کا بہانہ بنایا گیا، سابق وزیراعظم نوازشریف

گوجرانوالہ میں خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ عوام نے انہیں وزیراعظم بنایا لیکن انہوں نے نکال دیا۔ ہم نے آکر ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالا، مسائل حل کیے۔ لوگوں کو ترقی برداشت نہ ہوئی اور دھرنے شروع ہو گئے۔ ساڑھے تین سال سے سازشیں ہو رہی تھیں۔ عوام بتائے نوازشریف کو کیوں نکالا گیا؟ کیا کرپشن کی؟ رشوت لی یا کمیشن کھایا؟
نوازشریف نے کہا ملک میں اٹھارہ وزرائے اعظم کو ڈیڑھ ڈیڑھ سال ملا، تین ڈکٹیٹر تیس سال کھا گئے۔ کسی وزیراعظم کو سولی پر لٹکایا، کسی کو جیل میں ڈالا، کسی کو جلاوطن کیا۔ بیس کروڑ عوام کے ووٹ کی عزت ہے یا نہیں۔ جب چاہو ووٹ کی پرچی پھاڑ دو۔ یہ سلسلہ کب تک چلے گا۔ اور کوئی بہانہ نہ ملا تو یہ کہہ کر برطرف کر دیا کہ بیٹے سے تنخواہ نہیں لی۔ کیا وزیراعظم کے ساتھ یہی سلوک ہوتا رہے گا؟ میرے خلاف فیصلہ دینے والو عوام کا فیصلہ بھی دیکھ لو۔
سابق وزیراعظم نے کہا دنیا میں کوئی ملک ایسا نہیں جہاں وزیراعظم سے ایسا سلوک ہوتا ہو۔ کیا پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے والے وزیراعظم سے یہ سلوک ہوتا ہے؟ عوام نے آپ کا فیصلہ تسلیم نہیں کیا۔ نوازشریف گھر بیٹھنے والا نہیں۔ انہوں نے عوام سے مستقبل کے سیاسی لائحہ عمل کیلیے تیار رہنے کا عہد بھی لیا، اس سے پہلے گجرات میں خطاب کرتے ہوئے نوازشریف نے کہا کہ ان پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں۔ قوم کا پیسہ امانت سمجھا،اس میں کبھی خیانت نہیں کی۔ عوام جسے منتخب کرتے ہیں اسے خدمت کا موقع بھی ملنا چاہیے لیکن پانچ لوگوں نے رسوا کرکے نکال دیا۔ یہ سلسلہ اب برداشت نہیں کرسکتا

Most Popular