ننھی کلیوں کا اغواء ان کے ساتھ زیادتی اور پھر بے دردی سے قتل

ننھی کلیوں کا اغواء ان کے ساتھ زیادتی اور پھر بے دردی سے قتل

قصورمیں کمسن بچیوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعات کافی عرصے سے جاری ہیں ،، اب تک بارہ معصوم بچیاں ہوس کا نشانہ بنائے جانے کے بعد قتل کی جا چکی ہیں , گزشتہ برس 6سالہ ایمان فاطمہ،8سالہ نور فاطمہ،9 سالہ لائبہ اور 11 سالہ فوزیہ زیادتی کے بعد قتل کردی گئیں ،، لیکن آج تک کوئی سفاک درندا پکڑہ نہ جاسکا,دوہزار پندرہ میں بھی قصوراسکینڈل سامنے آیا تھا۔جس میں 300 بچوں کاریپ کر کےویڈیوز بنائی گئیں،، سال 2016 کی رپورٹ ملکی صورتحال کی جو تصویر پیش کرتی ہے اس کے مطابق جنوری سے دسمبر 2016 تک ملک بھر سے بچوں سے زیادتی کے 4139 واقعات رپورٹ ہوئے جو 2015 کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ تھے ،، یعنی ہر روز 11 بچے ظلم کا نشانہ بنے  2017 کی ششماہی رپورٹ کے مطابق جنوری سے جون 2017 تک ملک بھر سے بچوں کے ساتھ زیادتی کے سترہ سو چونسٹھ واقعات رپورٹ ہوئے جس میں ایک ہزار سڑسٹھ واقعات میں لڑکیوں جبکہ چھ سو ستانوے واقعات میں لڑکوں کو نشانہ بنایا گیا ،10 سال سے کم عمر بچوں کی تعداد 438 تھی ،، جنسی تشدد کے واقعات کو صوبائی بنیادوں پر دیکھا جائے تو پنجاب 1089 واقعات کے ساتھ سرفہرست رہا جس کے بعد سندھ میں 490، بلوچستان میں 76، خیبرپختونخوا میں 42 جبکہ آزاد کشمیر سے بچوں سے جنسی زیادتی کے 9 افسوس ناک واقعات منظر عام پر آئے

حکومت کی جانب سے ملزمان کو پکڑنے اور انصاف دلانے کی یقین دہانی تو کرائی جاتی ہے مگر انصاف بہت کم لوگوں کو ہی مل پاتا ہے 
،

Most Popular