حکومت نےمیڈیکل کالجزنہیں بنائےاوراس خلاءکونجی میڈیکل کالجز نےپرکیا، ہوسکتا ہےیہ خلاءجان بوجھ کرپیداکیاگیاہو, چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار

حکومت نےمیڈیکل کالجزنہیں بنائےاوراس خلاءکونجی میڈیکل کالجز نےپرکیا، ہوسکتا ہےیہ خلاءجان بوجھ کرپیداکیاگیاہو, چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار


چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پی ایم ڈی سی کے وجود اور ریگولیشن کیخلاف کیس کی سماعت کی، ، دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ،، نجی میڈیکل کالجز کو ختم نہیں کرنا چاہتے،، لیکن میڈیکل کالجز کو کاروباری ادارہ نہیں بننا چاہیے،، نجی میڈیکل کالجز کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے 2012 کی پالیسی کے حوالے سے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ،، سرکاری کالجز میں داخلے سے محروم رہ جانے والے طلباءنجی کالجوں میں داخلہ لیتے ہیں،، پاکستان کو اس وقت پانچ لاکھ ڈاکٹرز درکار ہیں،،چیف جسٹس نے کہا ہمیں پانچ لاکھ ڈاکٹرز درکار ہیں عطائی نہیں،، ایسے ماہر سرجن درکار ہیں جو آپریشن کریں،، ایسے ماہرین نہیں جو داتا دربار سے نشئی اٹھا کر لے جائیں اور اس کا گردہ نکال کر عربی کو بیچ دیں،، اٹارنی جنرل کی جانب سے ایک بھارتی کیس کا حوالہ دینے پر چیف جسٹس نے اظہار برہمی کیا،، انہوں نے ریمارکس دیے کہ اٹارنی جنرل صاحب، بھارتی فیصلوں کے حوالے نہ دیں،پاکستان کے فیصلے موجود ہیں،اگر کوئی پاکستانی فیصلہ موجود نہ ہو تو غیر ملکی فیصلوں کے حوالے دیں،،چیف جسٹس نے کہا جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کروں گا،،، عدالت نے کیس کی مزید سماعت جمعہ کے روز تک کیلئے ملتوی کر دی ۔۔۔

Most Popular