چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے زینب کے قاتل کی گرفتاری کیلئے پولیس کو چھتیس گھنٹے کی مہلت دے دی

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے زینب کے قاتل کی گرفتاری کیلئے پولیس کو چھتیس گھنٹے کی مہلت دے دی

چیف چسٹس لاہور ہائیکورٹ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے بچیوں سے زیادتی پر قانون سازی کیلئے درخواست پر سماعت کی،،، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ بچوں سے زیادتی اور قتل کے لرزہ خیز واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوچکا ہے، قانون سازی نہ ہونے کی وجہ سے ملزمان آزادانہ گھوم رہے ہیں، بچوں سے زیارتی اور قتل جیسے جرائم پر قانون سازی اور سخت ترین سزا کا نہ ہونا حکومت کی بے حسی کا ثبوت ہے، قصور میں بچوں سے زیارتی اور قتل کے واقعات میں مسلسل اضافہ کی ذمہ دار حکومت ہے،چیف جسٹس کی طلبی پر آئی جی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ طارق نواز عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے استفسار کیا کہ قصور میں کیوں اتنے واقعات ہو رہے ہیں، آئی جی نے بتایا کہ دو سال میں گیارہ واقعات ہوئے جس میں سے دو کیس حل کرلیے ہیں۔ دو سال میں بچیوں سے زیادتی کے گیارہ واقعات ہوئے، دو سو ستائیس مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا، چیف جٹس لاہورہائیکورٹ نے ریمارکس دئیے کہ زینب کا معاملہ افسوسناک ہے، بچے سب کے سانجھے ہوتے ہیں، انہوں نے بچوں سے زیادتی کے تمام کیسز کی تفصیلات طلب کرلیں، زینب کے قاتلوں کی گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ قاتل کی گرفتاری کیلئے چاہے پوری فورس ہی کیوں نہ لگانی پڑے، ملزم کو چھتیس گھنٹوں میں گرفتار کیا جائے, کیس کی سماعت ملتوی کردی گئی

Most Popular