تعلیم، دوستی اور حقوق نسواں کیلئے آٓواز بلند کرنے والی سوات کی گل مکئی بیس برس کی ہوگئیں

تعلیم، دوستی اور حقوق نسواں کیلئے آٓواز بلند کرنے والی سوات کی گل مکئی بیس برس کی ہوگئیں

سوات کی گل مکئی نے 12 جولائی 1997 کو مینگورہ میں آنکھ کھولی وہ بچپن ہی سے تخلیقی صلاحیتوں کی حامل تھی۔ نو اکتوبر 2012ء کو علم دشمنوں نے حصول علم کے لیے جانے والی ملالہ یوسف زئی کو نشانہ بنایا اس حملے میں ملالہ یوسف زئی بری طرح زخمی ہوئیں۔ پہاڑ جیسے حوصلے کی مالک گل مکئی نے بہادری سے موت کو شکست دے دی۔ ملالہ یوسف زئی کی اسی بہادری اور جرات نے ان کو دنیا بھر میں مقبول بنادیا۔انتیس اپریل 2013ء کو ملالہ کی تصویر کو امریکی جریدے نے سرورق پر شائع کرکے انہیں دنیا کی بااثر 100 شخصیات میں شمار کیا۔ 12 جولائی 2013ء کو ملالہ نے اقوامِ متحدہ کے صدر دفتر میں خطاب کیا۔ ملالہ یوسفزئی کی تعلیم کے لئے خدمات کے اعتراف میں 2014میں انہیں نوبل انعام سے نوازا گیا۔وہ نوبل انعام پانے والی دنیا کی سب سے کم عمر شخصیت تسلیم کی جاتی ہیں۔
پندرہ مئی 2014کو ملالہ کو یونیورسٹی آف کنگز کالج، ہیلی فیکس کی جانب سے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی گئی۔ اقوام متحدہ کے علان کے بعد ملالہ یوسف زئی کی سالگرہ کے دن کو ملالہ ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے، 2013میں ملالہ یوسف زئی کی خود نوشت سوانح عمری ’’میں ملالہ ہوں‘‘ شائع ہوئی۔ کینیڈین وزیراعظم نے ملالہ یوسف زئی کو کینیڈا کی اعزازی شہریت سے بھی نوازا۔ ملالہ یوسف زئی کینڈین پارلیمنٹ سے بھی خطاب کرچکی ہیں۔ اقوام متحدہ نےگل مکئی کوامن کے پیامبرکاعہدہ دے کر ان کی خدمات کا اعتراف کیا۔

Most Popular