پاکستان کی سیاسی تاریک کا سیاہ دن "12اکتوبر"

 پاکستان کی سیاسی تاریک کا سیاہ دن

اقتدار پر قبضہ جمانے کے بعد جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے اپنے خطاب میں 7 نکاتی ایجنڈا پیش کر کے عوام کو رام کرنے کی کوشش کی

12اکتوبر کو اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے سترہ اکتوبر انیس سو ننانوے کو قوم سے خطاب کیا، اس دوران انہوں نے سات نکاتی ایجنڈا پیش کر کے قوم کو اپنا ہمنوا بنانے کی کوشش کی،مشرف کے سات نقاتی ایجنڈے کا پہلا نکتہ تھا
قومی اعتماد اور حوصلہ افزائی کی تعمیر
دوسرے نکتے میں فیڈریشن کو مضبوط بنانے، بین الاقوامی بدانتظام کو ہٹانے اور قومی ہم آہنگی کو بحال کرنا شامل تھا۔مشرف نے اپنے ایجنڈے کے تیسرے اور چوتھے نکتے میں معیشت، سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی، امن و امان اور انصاف کی فراہمی کا وعدہ کیاپانچواں اور چھٹا نکتہ ریاستی اداروں کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک کرنا اور گراؤنڈ لیول پر اقتدار کی منتقلی تھا۔مشرف کے ایجنڈے میں جو سب سے زیادہ اہم نکتہ تھا روہ احتساب تھا۔اُس ایجنڈے کے تحت کرپٹ عناصر اور ملکی خزانے کو لوٹنے والوں کا کڑا احتساب کرنے کا نکتہ سرفہرست تھا۔ قوم نے اسی نکتے پر پرویز مشرف کو سرآنکھوں پر بٹھایا، لیکن مشرف نو سالہ دور میں احتساب کرنے میں ناکام رہے۔

مشرف کے اقتدار کے خاتمے کے بعد پاکستان میں نویں عام انتخابات اٹھارہ فروری دو ہزار آٹھ کو ہوئے، مسلم لیگ ن مرکز میں حکومت نہ بنا سکی لیکن پنجاب میں ایک بار پھر اکثریت حاصل رہی۔

3 نومبر 2007ء کو صدر پرویز مشرف نے ملک بھر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی۔ مشرف نے ملک کا آئین بھی معطل کر دیا میڈیا پر بھی پابندی عائد کر دی۔ انتخابات ابتدائی طور پر غیر معینہ مدت تک ملتوی کر ديئے گئے؛[ تاہم، بعد میں ِنہیں مقررہ وقت پر ہی منعقد کرنے کا سوچا گیا۔ 8 نومبر 2007ء کو مشرف نے اعلان کیا کہ آئندہ انتخابات کی تاریخ 15 فروری 2008 ہو گی۔ لیکن پھر ، انتخابات کی تاریخ کبھی 9 جنوری 2008ء تو کبھی بدل کر 8 جنوری 2008 کر دی گئی۔ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد، الیکشن کمیشن کے ایک اجلاس میں یہ طے پایا گیا کہ 8 جنوری 2008ء کو انتخابات ممکن نہیں اور یہ یقینی طور پر 18 فروری 2008ء کو ہی ہوں گے۔انتخابات کے بعد مشرف نے اِس بات کا اعتراف کیا کے انتخابی عمل آزادانہ اور منصفانہ تھا، جبکہ اِن کی پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ق)، کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ مسلم لیگ ن مرکز میں حکومت تو نہ بنا سکی لیکن پنجاب میں ایک بار پھر بھاری اکثریت کے ساتھ کامیاب ہو کر صوبے میں حکومت بنائی۔

انیس سو ننانوے کے مارشل لا کے بعد مسلم لیگ ن کا شیرازا بکھر گیا، نواز شریف کے جلا وطن ہوتے ہی لیگی رہنماؤں کو گرفتار کرلیا گیا، کئی پارٹی سے الگ ہوئے، اس دوران بیگم کلثوم نواز نے کسی نہ کسی طرح پارٹی کو قائم رکھا۔

انیس سو ننانوے میں جب پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ جمایا تو اس وقت لیگی رہنماؤں کو گرفتار کیا جانے لگا، نواز شریف کو جلا وطن کردیا گیا، پارٹی بکھر گئی، جو لیگی رہنما بڑے بڑے دعوے کرتے دکھائی دیتے تھے وہ سب تتر بتر ہو گئے، نواز شریف کی اہلیہ میدان میں آئیں اور اپنے شوہر اور پارٹی کیلئے جدوجہد شروع کی، جاوید ہاشمی وہ شخص تھے جو میاں نواز شریف کے ساتھ کھڑے تھے، انہیں نواز شریف سے وفاداری پر غدار کہا گیا، تئیس برس کی سزا سنائی گئی، جیل کی کال کوٹھری میں چار برس گزارے، خواجہ سعد رفیق، راجا ظفر الحق، چودھری نثار، سردار ذوالفقار علی کھوسہ، خواجہ آصف بھی مسلم لیگ ن کے ساتھ جڑے رہے، یہ رہنما مشرف دور میں اپنی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن میں جرات اور بہادری کے ساتھ کھڑے رہے۔ ان کے علاوہ مسلم لیگ میں کئی رہنما بھی ہیں جنہوں نے آمریت کی سختیاں برداشت کیں،، مسلم لیگ دو دھڑوں میں بٹ گئی،،2001ء میں میاں محمد اظہر مسلم لیگ ق قائم کی، جو فوجی آمر پرویز مشرف کی زیر عتاب پاکستان مسلم لیگ ن کو چھوڑ دینے والے اراکین پر مشتمل تھی۔ اس جماعت کی تشکیل میں سیدہ عابدہ حسین، خورشید محمود قصوری اور چودھری شجاعت حسین بھی شامل تھے۔ مسلم لیگ ن سے الگ ہونے والے ان رہنماؤں نے مشرف کے دور میں بھی اقتدار کے مزے لوٹے۔

Most Popular