اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کے نیب ریفرنس میں ایک گواہ طارق جاوید پر جرح مکمل کرلی گئی

اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کے نیب ریفرنس میں ایک گواہ طارق جاوید پر جرح مکمل کرلی گئی

اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت اسلام آباد کی احتساب عدالت میں ہوئی،، سماعت کا آغاز استغاثہ کے گواہ طارق جاوید پر جرح سے ہوا،، دوران جرح طارق جاوید نے بتایا کہ وہ 1991سے البرکا بینک سے وابستہ ہے، انہوں نے نیب لاہورکو اسحاق ڈار کی بیوی تبسم اسحاق ڈار کے اکاﺅنٹ کی تفصیلات دیں، ، خواجہ حارث نے کہا کہ ریفرنس میں شامل بعض دستاویزات نہیں مل رہیں، ،جس پر جج محمد بشیر نے کہا کہ یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں، خواجہ حارث نے جواب میں کہا کہ ایک دستاویز آنے کے بعد اضافی دستاویز نہیں آسکتی،، جج نے نیب کے وکیل کو حکم دیا کہ نئی درخواست کے ساتھ مسنگ دستاویز شامل کی جائیں، خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں دعویٰ کیا کہ بینک اسٹیٹمنٹ صفحہ 35 سے 39 تک فوٹو کاپی پر مشتمل ہے، الیکٹرانک ٹرانزیکشن ایکٹ 2000 کی شق 12 کا حوالہ ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے ،دوران سماعت طارق جاوید نے بتایا کہ پہلا اکاؤنٹ تبسم اسحاق ڈار،دوسرا ہجویری مضاربہ اور تیسرا ہجویری ہولڈنگ پرائیویٹ کے نام پر کھولا گیا،، ہجویری مضاربہ کے اکاؤنٹس عبدالرشید،نعیم محبوب اور ندیم بیگ آپریٹ کررہے تھے،، گواہ نے تیسرے بینک اکاؤنٹ کی تفصیل،بینک کورنگ لیٹر، اکاؤنٹ کھلوانے کا فارم اور ٹرانزیکشن کی تفصیلات بھی عدالت میں پیش کردیں۔ خواجہ حارث نے کہا کہ انہیں گواہ کی دستاویز پراعتراض ہے، پیش کی گئی دستاویزات گواہ نے تیار کیں اور نہ اس کی تحویل میں ہیں، تصدیق شدہ دستاویزات فراہم نہیں کی گئیں، یہ دستاویزات تو کوئی بھی تیار کرسکتا ہے، جس پر فاضل جج نے کہا کہ ایسی بات نہیں یہ بینک کی دستاویزات ہیں، احتساب عدالت نے کیس کی مزید سماعت سولہ اکتوبر تک کیلئے ملتوی کردی

Most Popular