مون سون بارشوں نے ملک بھر میں تباہی مچا دی

مون سون بارشوں نے ملک بھر میں تباہی مچا دی

مون سون کا دوسرا راؤنڈ قہر بن کر برسا، پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان میں بادل برسے اور ایسا برسے کہ تباہی مچا دی، گوجرانوالہ میں شدید بارشوں کے باعث چھتیں گرنے کے تین حادثات رونما ہوئے۔ جن میں تیرہ افراد لقمہ اجل بن گئے،سیالکوٹ کے علاقے بڈیانہ میں کرنٹ لگنے سے ماں بیٹا زخمی ہو گئے، اسلام آباد کے علاقے آئی نائن میں گھر کی دیوار گرنے سے میاں بیوی اور آٹھ سالہ بچی جاں بحق ہو گئے۔۔ گجرات میں بارش کے باعث کرنٹ لگنے سے ایک شخص چل بسا دیوار گرنے سے 4 افراد ملبے تلے دب کر زخمی ہوئے۔ نارووال میں بچہ ڈوب جانے پر ماں صدمے سے چل بسی۔ فیروز والا میں کھمبے میں کرنٹ آ جانے سے لائن مین زاہد جاں بحق ہوا، شخوپورہ میں مکان کی چھت گرنے سے 8 افراد ملبے تلے دب کر زخمی ہو گئے۔ فیصل آباد میں گھروں اور مکانوں کی چھتیں گرنے سے ایک نوجوان جاں بحق جبکہ 6 افراد زخمی ہو گئے۔ ادھر صوابی کےعلاقے یارحسین میں مکان کی چھت گرنے سے اور ماں اور بیٹی زخمی ہو گئیں۔

بارشوں کے باعث ڈیموں اور دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہو گئی، دریا بپھرنے لگے، ندی نالوں میں طغیانی آگئی، ایبٹ آباد، نتھیا گلی، ایوبیہ اور آزاد کمشیر میں بھی بارشوں نے تباہی مچادی،،، پی ڈی ایم اے نے خیبر پختونخوا میں ممکنہ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے۔

حالیہ بارشوں کے باعث ڈیموں میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا،ملک کے دو بڑے آٓبی ذخائر تربیلا اور منگلا ڈیم بھرنے کے قریب پہنچ گئے،،، تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح1485فٹ سے زائد ریکارڈ کی گئی ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی حد 1550 فٹ ہے، منگلا ڈیم میں پانی کی سطح 1210 فٹ سے زائد ہو چکی ہے،
دوسری طرف پانی کے بہاؤں کے باعث دریاؤں اور ندی نالوں میں بھی طغیانی آنے لگی راولپنڈی میں نالہ لئی میں پانی کی سطح بلند ہو گئی، سیالکوٹ اور جہلم میں بھی بارش کے بعد سڑکیں اور گلیاں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیںمریدکے کے علاقے پرکھو والے کے قریب نہر میں شگاف پڑنے سے سیکڑوں ایکڑ اراضی زیر آب آ گئی، نہر کے پانی کے باعث مکئی، جوار اور مختلف سبزیوں کی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ایبٹ آباد، نتھیاگلی اور ایوبیہ میں شدید بارشوں سے کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں جبکہ آزاد کشمیر کے وادی نیلم کے گاؤں لیسوا میں پانچ گھر ریلے میں بہہ گئے۔
مظفرآباد شہر اور گرد نواح میں شدید بارش کے بعد برساتی پانی گھروں اور سرکاری عمارتوں میں داخل ہوگیا۔شدید بارشوں کے باعث پہاڑوں پر لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے پتھر گرنے سے متعدد سڑکیں بند ہوگئی۔ادھر دریائے نیلم اور جہلم کے اطراف کی آبادیوں کو فلڈ کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔ پی ڈی ایم اے نے خیبر پختونخوا میں ممکنہ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہ

Most Popular