سپریم کورٹ میں عمران خان نااہلی کیس میں حنیف عباسی کے وکیل نے ممنوعہ ذرائع سے پی ٹی آئی کو کئی ملین ڈالر کی فنڈنگ کا الزام لگا دیا

سپریم کورٹ میں عمران خان نااہلی کیس میں حنیف عباسی کے وکیل نے ممنوعہ ذرائع سے پی ٹی آئی کو کئی ملین ڈالر کی فنڈنگ کا الزام لگا دیا

چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے عمران خان کی نااہلی سے متعلق حنیف عباسی کی درخواست کی سماعت کی۔۔ الیکشن کمیشن کے وکیل ابراہیم ستّی نے دلائل میں کہا کہ پی ٹی آئی نے آج تک کسی گوشوارے میں فارن فنڈنگ کا ذکر نہیں کیا، پی ٹی آئی نے جان بوجھ کرفراڈ کیا اورحقائق چھپائے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کون سی سیاسی جماعت تسلیم کرے گی کہ فنڈز ممنوعہ ذرائع سے آئے، کسی نے فنڈز کو ممنوعہ تسلیم کیا تو وہ قبضہ میں لے لیے جائیں گے۔ ابراہیم ستّی نے کہا کہ اکبر ایس بابر پی ٹی آئی کے بانی رکن ہیں، وہ گھر کے بھیدی ہیں جنہوں نے لنکا ڈھائی،الیکشن کمیشن نے اکبر ایس بابر کی درخواست پر نوٹس لیتے ہوئے کارروائی شروع کی، تاہم پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار محدود وقت کے لیے ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن عدالت یا ٹربیونل نہیں، یہ اتھارٹی کے تحت فنڈز کے حوالے سے اختیاررکھتا ہے، اس کے اختیارات پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی آئی نے کیلی فورنیا میں 195 ملٹی نیشنل کارپوریشنز سے فنڈز لیے اس کے علاوہ بھارت سمیت دیگرغیر ملکیوں سے بھی فنڈز لیے گئے، پی ٹی آئی کی تفصیلات میں مکمل معلومات نہیں دی گئیں، فنڈز دینے والوں کا کہیں نام نہیں تو کہیں ایڈریس نہیں۔۔ پی ٹی آئی کوکئی ملین ڈالرزممنوعہ ذرائع سے ملے۔۔ عمران خان کے وکیل انور منصور نے کہا کہ کوئی فنڈزممنوعہ نہیں،پی ٹی آئی کو تمام فنڈنگ بذریعہ بنک ہوتی ہے۔ فنڈزکی تمام تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ سیاسی جماعتوں نے اکاؤنٹس کی تفصیلات ہر سال جمع کرانا ہوتی ہیں اور الیکشن کمیشن جانچ پڑتال کے بعد گوشوارے منظور کرتا ہے۔۔ تاہم یہ دس سال بعد اکاوٴنٹس نہیں کھول سکتا۔ چیف جسٹس نے تحریک انصاف کے وکیل سے مکالمے میں کہا کہ امید ہے وہ سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار چیلنج نہیں کریں گے۔۔ بعد میں کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی گئی

Most Popular